Wednesday, 18 July, 2007, 15:28 GMT 20:28 PST
نیئر شہزاد
راولپنڈی
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے لال مسجد کے زیر حراست خطیب مولانا عبدالعزیز کی بیوی اور دو بیٹیوں کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔
اُم حسان اور ان کی بیٹیوں طیبہ دعا اور عصمہ عزیز کا جسمانی ریمانڈ تھانہ آبپارہ میں تین جولائی کو درج ہونے والے ایک مقدمے میں دیا گیا، جو رینجرز کے ایک اہلکار کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے سے متعلق ہے۔
مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت سے سات دن کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی تھی۔ عدالت کے جج سخی محمد کہوٹ نے طیبہ دعا اور عصمہ عزیز کی درخواست برائے ضمانت کی سماعت اکیس جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔
پولیس نے اسی مقدمے میں جامعہ فریدیہ کے ایک استاد محمد افضل کو گرفتار کر کے اسی عدالت سے ان کا پانچ روزہ ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں دیگر ملزمان کی ضمانتیں ہوچکی ہیں، لہذا ان کے مؤکل کی بھی ضمانت منظور کر لی جائے۔
وکیل استغاثہ نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے کے باقی ملزمان نے مولانا عبدالعزیز کے حکم پر بارہ کہو بازار میں سرعام سی ڈیز جلائیں تھیں۔ عدالت نے اس درخواست پر فیصلہ جمعرات تک محفوظ کر لیا۔
حشمت حبیب نے چینی باشندوں کے اغواء کے مقدمے میں طیبہ دعا کی ضمانت کی درخواست دائر کرتے ہوئے اپنے دلائل میں کہا کہ اس مقدمے میں ان کی مؤکلہ کا نام نہیں ہے اور پولیس نے انہیں ناجائز طور پر اس مقدمے میں گرفتار کر کے جیل بجھوا دیا ہے۔
مولانا عبدالعزیز کوتھانہ آبپارہ کے اسی مقدمے میں جمعرات کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔