http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 18 July, 2007, 18:19 GMT 23:19 PST

ایوب ترین
کوئٹہ

ایران کیطرف سے ایک لاکھ خیمے

ایران کے نائب وزیر خارجہ ڈاکٹر سفاری نے کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ جام محمد یوسف سے ملاقات میں بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے ایک لاکھ خیمے دینے کا اعلان کیا ہے۔

ڈاکٹر سفاری نے کہا کہ ایران مشکل کی اس گھڑی میں بلوچستان کے متاثرہ لوگوں کوتنہا نہیں چھوڑے گا اور اس حوالے سے ہر ممکن مدد جاری رکھے گا۔

دوسری جانب صوبائی حکومت نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے اٹھارہ کروڑ روپے جاری کیے ہیں، جس سے ان لوگوں کو وسائل فراہم کیے جائیں گے جن کے مکانا ت تباہ ہوچکے ہیں۔

اس بات کا اعلان صوبائی سیکرٹری داخلہ طارق ایوب نے کوئٹہ میں ایک بریفینگ کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں 50 ہزار سے زائد خیموں کی ضرورت ہے جبکہ اب تک صرف 15 ہزار خیمے تقسیم کیے جا سکے ہیں۔

طارق ایوب کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف نے بلوچستان کے دورے کے دوران تربت میں 30 کروڑ روپے دینے کا جو اعلان کیا تھا وہ صوبائی حکومت کو مل چکے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ بلوچستان کی سرحدیں افغانستان اور ایران سے ملتی ہیں اور صوبے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر بھی غیرملکی امدادی اداروں کو اُس آزادی کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے جس طرح وہ اِس وقت سندھ میں کر رہے ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان کے ضلع نصیرآباد میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے، جس میں خواتین اور بچےبھی شامل تھے، ایک اجتجاجی مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی امداد نہیں ملی ہے۔