http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 17 July, 2007, 14:21 GMT 19:21 PST

عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

’اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا‘

متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے سربراہ قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں فوج کی تعیناتی سے متعلق مرکزی حکومت سے درخواست کرتے ہوئے صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ نے متحدہ مجلس عمل کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔

یہ بات انہوں نے پیر کو پشاور میں ایک نیوز کانفرنس میں کہی۔ ایم ایم اے کے رہنما کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ سرحد اکرم خان درانی سے اس سلسلے میں وضاحت طلب کی ہے تاہم انہوں نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ فوج کی تعیناتی ان کی ہی درخواست پر کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ علاقے سے فوج کی واپسی سے متعلق ملاکنڈ ڈویژن کے گرینڈ جرگے کے مطالبہ کی حمایت کی اور کہا کہ وہاں پر مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے ڈھونڈا جائے۔ ان کے بقول ملا کنڈڈویژن میں فوجی آپریشن کے خطرناک نتائج سامنے آئیں گے اور بقول ان کے جنرل پرویز مشرف ذاتی مقاصد کے لیے پاکستانی فوج کو استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے گزشتہ روز تحصیل مٹہ میں فوج پر ہونے والا خودکش حملے کو لال مسجد کے خلاف کیے گئے آپریشن کا ردعمل قرار دیا اور یہ مطالبہ پھر سے دہرایا کہ لال مسجد اور جامعہ فریدیہ کو وفاق المدارس کے حوالے کیا جائے۔

پریس کانفرنس میں قاضی حسین احمد کو صحافیوں کی طرف سے صوبہ سرحد میں فوج کی تعیناتی کے معاملے پر جمیعت علماء اسلام اور جماعت اسلامی کے درمیان ابھرنے والے اختلافات سے متعلق سخت سوالوں کا سامنا کرنا پڑا تاہم جوابات دینے پر وہاں پر موجود صحافی زیادہ مطمئن نظر نہیں آئے جب ان سے پوچھا گیا کہ متحدہ مجلس عمل کی بجائے وزیراعلیٰ سرحد کیوں مرکزی حکومت سے فوج کی واپسی کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں تو پریس کانفرنس میں موجود جماعت اسلامی کےصوبائی امیر سراج الحق نے زیر لب کہا کہ’ وزیر اعلیٰ کا اس سلسلے میں کوئی بس نہیں چلتا ہے‘۔