Sunday, 15 July, 2007, 22:10 GMT 03:10 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے قبائلیوں کے حکومت سے رابطوں پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ حکومت نے طالبان کی ڈیڈلائن کے جاری کرنے کے بعد سے اس معاہدے کو بچانے کی بظاہر کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی ہے۔
تقریبا ایک برس تک کشیدگی، خونی حملے اور کارروائیاں برداشت کرنے کے بعد ہی گزشتہ برس ستمبر میں حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے پر مقامی آبادی نے سکھ کا سانس لیا تھا۔ لیکن بہت لے دے کے بعد یہ صرف دس ماہ ہی چل سکا۔
ستمبر کا معاہدہ طے پانے میں دو شخصیات نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان میں ایک اس وقت کے نئے گورنر علی جان اورکزئی تھے جنہوں نے مسئلے کا حل عسکری طریقے کی بجائے سیاسی انداز سے نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ معاہدے کے حوالے سے دوسری اہم شخصیت جعمیت علماء اسلام کے رکن قومی اسمبلی مولانا نیک زمان تھے۔
معاہدے کے ابتدائی دنوں میں دونوں اس کا بھرپور دفاع کرتے دکھائی دیتے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے جذبے میں کمی آتی گئی۔ علاقے میں فوجی کارروائیوں کے بعد تو گورنر صاحب نے جیسے اس بارے میں لب کشائی ہی چھوڑ دی۔ یہ واضح نہیں کہ فوجی کارروائیاں گورنر کی رضامندی سے کی گئیں یا نہیں۔
ایسے میں بظاہر دباؤ میں آ کر خطے میں دو چار فوجی کارروائیاں کی گئیں جن سے معاہدے کے بعد پیدا ہونے والے خیرسگالی کے جذبات ٹھنڈے پڑنا شروع ہوگئے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے ایک گروہ کی جانب سے معاہدہ توڑنے اعلان کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ یہ معاہدہ قبائل سے ہے۔ لیکن یہ قبائل جو کہ معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے قائم امن کمیٹی میں شامل تھے پہلے ہی حکومت کے دتہ خیل میں ایک آپریشن پر بطور احتجاج اس کمیٹی سے مستعفی ہوچکے ہیں۔
تاہم حکومت کی جانب سے گزشتہ چند روز سے خطے میں بیس سے پچیس مختلف مقامات پر حفاظتی چوکیوں نے بظاہر طالبان کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا۔ انہیں اعتراض تھا کہ ان چوکیوں سے قبائلیوں کو شدید تکلیف تھی اور ان کے کپڑے بھی اتار کر ان کی تلاشی لی جانے لگی تھی۔
ستمبر کے معاہدے میں یہ بات واضع طور پر لکھی گئی تھی کہ فوج صرف کیپموں تک محدود رہے گی اور چوکیاں ختم کر دی جائیں گی۔ پھر چوکیوں کے اس اچانک قیام کی وجہ کیا تھی معلوم نہیں ہوسکا ہے۔
فوجی کارروائیوں سے متاثرہ افراد کو معاوضے کی عدم ادائیگی کی شکایت شدت پسندوں کو معاہدے کے آغاز سے تھی۔ حکومت نے کچھ افراد کو تو رقم دی لیکن شدت پسندوں کے مطابق سب کو نہیں۔
البتہ شدت پسندوں کے خلاف زمینی و فضائی کارروائیاں مقامی طالبان کی ایک اہم شکایت تھی۔ حکام نے ان حلموں کو دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے تعبیر کیا تاہم اس تاویل کا قبائلی علاقوں میں کوئی اثر نہیں ہوا۔ مقامی لوگ اب بھی کہتے ہیں کہ یہ فضائی حملے یا تو پاکستانی اور یا پھر سرحد پار سے امریکی افواج نے کیے۔
مبصرین کے نزدیک صورتحال نے یقینا ایک خراب شکل اختیار کر لی ہے تاہم اس کا ایک خطرناک پہلو مقامی طالبان کا دعویٰ ہے کہ اس مرتبہ اس جنگ میں جنوبی وزیرستان کے قبائل بھی ان کی پشت پر ہوں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس مرتبہ میدان جنگ صرف شمالی یا جنوبی نہیں بلکہ تمام وزیرستان ہوگا۔ یہ ایک بڑا علاقہ ہوگا جہاں اپنی رٹ قائم رکھنا حکومت کے لیے ایک مشکل ضرور ثابت ہوگی۔