http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 16 July, 2007, 01:51 GMT 06:51 PST

مشرف کیلیے بھرپور امریکی حمایت

امریکہ نے پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے صوبہ سرحد میں شدت پسندوں کو کچلنے کی مہم میں پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون اور مدد کا اعادہ کیا ہے۔

امریکی صدر جارج بش کے سلامتی کے مشیر سٹیفن ہیڈلے نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف ننے افغانستان سے ملحقہ علاقے میں فوجی دستے بھیجنے کا درست فیصلہ کیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار راجر واکرز کا کہنا ہے کہ اتوار کو سٹیفن ہیڈلے نے ٹیلیوژن کے سٹوڈیوز میں ایک مصروف دن گذارا۔انہوں نے دن بھر چار انٹرویوز دیئے جن میں مجموعی طور پر ایک سا ہی پیغام تھا۔ یعنی پاکستان اور طالبان کے طرفدار قبائلیوں کے درمیان معاہدے کی ناکامی اور صدر مشرف کا افغان سرحد کے قرب و جوار میں فوج بھیجنے کے فیصلے کی تعریف۔

صدر بش کے مشیر نے کہا کہ صدر مشرف نے گزشتہ برس ستمبر میں طالبان کے حمایتی قبائلی رہنماؤں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیاں روک دی گئی تھیں جس کے بدلے میں انہیں غیر ملکی جنگجوؤں کو تلاش کرنا تھا۔ تاہم سٹیفن ہیڈلے نے کہا کہ اس معاہدہ سے صدر پرویز مشرف یا امریکہ کے حسبِ خواہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔

گزشتہ روز سوات اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے خود کش حملوں اور دھماکے میں مجموعی طور پرگیارہ فوجیوں سمیت چالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

خود کش حملوں اور دھماکے کا پہلا واقعہ سوات کے علاقے مٹہ میں پیش آیا جہاں فوجی قافلے پر ہونے والے دو خودکش حملوں اور ایک دھماکے میں گیارہ فوجیوں سمیت تیرہ افراد ہلاک اور باون زخمی ہوگئے۔

دوسرے واقعے میں ڈی آئی خان میں پولیس کی بھرتی کے مرکز پر ہونے والے خود کش حملے میں چھ پولیس اہلکاروں سمیت ستائیس افراد مارے گئے۔