عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے علاقے تربت میں بلیدہ کے قریب نا معلوم افراد نے فرنٹیئر کور کی ایک گاڑی پر فائرنگ کی جس سے ایف سی کا ایک اہلکار ہلاک اور دو اہلکاروں سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے۔
تربت کے ضلعی ناظم رؤف رند نے بتایا کہ یہ واقعہ شام کے وقت پیش آیا ہے لیکن وہاں کوئی رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے اطلاع تاخیر سے ملی۔
انہوں نے کہا کہ در بولی کے مقام پر نا معلوم افراد نے ایف سی کی گاڑی پر فائرنگ کی جس سے ایک اہلکار ہلاک جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں یونین کونسل کا ناظم، ایک کونسلر، دو ایف سی کے اہلکار اور ایک شہری شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ عملہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے سروے کے لیے جا رہے تھے۔واقعہ کے بعد ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں حفاطتی اقدامات سخت کیے گئے ہیں۔ انسپکٹر جنرل پولیس طارق کھوسہ کے مطابق لال مسجد کے واقعہ کے بعد اہم مقامات پر پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے۔
کوئٹہ میں غیر ملکیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ پولیس کے بغیر کہیں سفر نہ کریں۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس رحمت اللہ نیازی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ فیصلہ لال مسجد کے واقعہ کے بعد کیا گیا تھا اور اس وقت کوئٹہ میں غیر ملکیوں کے دفاتر کے باہر سیکیورٹی بڑھائی گئی ہے۔
کوئٹہ میں ریلوے سٹیشن پر پولیس کے علاوہ سیکیورٹی فورسز کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ چھاونی کے علاقے میں عام آدمی کے داخلے کو مزید مشکل بنا دیا گیا ہے۔
چھاونی کے داخلی راستوں پر تو پہلے سے فوجی تعینات رہتے تھے لیکن لال مسجد کے واقعہ کے بعد ان مقامات پر فوجیوں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے اور جن گاڑیوں پر سٹکر نہیں لگے ہوئے انھیں چھاونی کے علاقے میں داخل نہیں ہو نے دیا جا رہا۔