Saturday, 14 July, 2007, 16:01 GMT 21:01 PST
متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے اس فیصلے کا ایم ایم اے یا جماعت اسلامی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
قاضی حسین احمد نے اس حوالے سے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔ بی بی سی کے شفیع نقی جامعی نے بعد میں ٹیلی فون پر ان سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کا جب بھی اجلاس ہوا، وہ پہلے روز ہی سپیکر کو اپنا استعفیٰ پیش کر دینگے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کا انفرادی فیصلہ ہے اور ایم ایم اے کے باقی ارکان اسمبلی حزب مخالف کی دوسری جماعتوں کی مشاورت کے ساتھ مناسب وقت پر مستعفی ہونگے۔ ’میرا ان لوگوں سے اختلاف ہوا تھا (استعفے دینے کے مسئلے پر) ۔۔۔ میں (مشرف مخالف) تحریک چلانے کے حق میں تھا ۔۔۔۔ لیکن مجلس عمل کے دوسرے لوگوں کو ساتھ بھی رکھنا تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ انہیں جامعہ حفصہ کی ایک طالبہ ملی ہیں، جن کے مطابق فوج اور دوسری فورسز کی طرف سے لال مسجد کے محاصرے اور کارروائی کے دوران جب وہ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں تو مدرسے میں سو طالبات اور پچانوے طلباء کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں جبکہ 1525 طالبات اندر موجود تھیں۔
قاضی حسین احمد نے کہا کہ لوگ مارے مارے پھر رہے ہیں کہ آپریشن میں لاپتہ ہو جانے والے اپنے بچوں کے بارے میں انہیں کوئی اطلاع ملے، چاہے ہلاک ہونے کی ہی کیوں نہ ہو۔ ’ہلاکتوں کی تعداد اب ایک ہزار سے اوپر کہی جا رہی ہے۔‘
ایم ایم اے کے رہنماء کا کہنا تھا کہ ملک کے حالات انتہائی خراب ہو چکے ہیں اور کوئی سویلین (شہری یا غیر فوجی) حکومت ہی انہیں بہتر کر سکتی ہے۔
اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق پریس کانفرنس میں قاضی حسین احمد نے کہا کہ وہ لال مسجد کے معاملے کو سپریم کورٹ میں لے کر جائیں گے جبکہ انہوں نے ایک سابق جج سے واقعہ کی تحقیقات کرانے کا اعلان بھی کیا۔