http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 14 July, 2007, 13:00 GMT 18:00 PST

عباس نقوی

دو افسران سمیت چھ کے وارنٹ

کراچی کی احتساب عدالت نمبر ایک نے سنیچر کے روز دو سرکاری افسراں اور دو غیر سرکاری تنظیموں کے تین عہدیداروں سمیت چھ افراد کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں۔

سابق ناظمِ اعلٰی نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ کی درخواست پر صوبائی احتساب بیورو (نیب) نے گزشتہ دنوں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے ای ڈی او لٹریسی گروپ شارق الیاس، ڈی ڈی او امتیاز طاہر، علامہ اقبال ویلفیئر ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد سبطیں، ٹیکنو ویجلنس ٹیکنالوجی کے پروپرائیٹر محمد عارف اور ساجد ویلفیئر سوسائٹی کے صدر اعتماد کاظمی اور سیکریٹری عابد عباس نقوی کے خلاف ریفرنس تیار کر کے احتساب عدالت میں جمع کرایا تھا۔

مذکورہ افراد پر الزام ہے کہ اُنہوں نے کراچی میں تعلیمِ بالغان کے لئے ملنے والے بجٹ میں اکیانوے لاکھ سے زائد کی رقم خرد برد کی۔

صدارتی حکم کے تحت دو ہزار دو میں ضلعی سطح پر ای ایس آر کے نام سے گیارہ اعشاریہ نو ملین کے بجٹ کا ایک پروگرام متعارف کرایا گیا تھا۔ جس کے تحت کراچی کے اٹھارہ ٹاؤنز میں تین سو لٹریسی سینٹر کا قیام اور تین سو اساتذہ کی بھرتیاں کی جانی تھیں۔

ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مذکورہ سرکاری افسراں نے ناظمِ اعلی اور ڈی سی او کے علم میں لائے بغیر اپنی من پسند دو غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر اساتذہ کی تنخواہوں اور سینٹرز کے قیام کے نام پر سرکاری فنڈ میں خرد برد کی۔

سابق ناظمِ اعلی نعمت اللہ سمیت کل اٹھارہ افراد کے نام اس ریفرنس میں گواہوں کی حیثیت سے ہیں جن میں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور اے جی سندھ آفس کے بعض ملازمیں بھی شامل ہیں۔

عدالت نے ریفرنس کی اگلی سماعت اگست کی آٹھ تاریخ کو مقرر کی ہے۔