http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 13 July, 2007, 16:49 GMT 21:49 PST

ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’کارروائی میں 102 افراد ہلاک ہوئے‘

حکومت کا کہنا ہے کہ لال مسجد میں مارے جانے والے پچھتر افراد میں سے صرف دس کی شناخت ہوسکی ہے۔ ان میں سے باجوڑ سے تعلق رکھنے والی تین افراد کی لاشیں ان کے لواحقین لے جا چکے ہیں۔ کم از کم پانچ مشتبہ غیر ملکیوں کی بھی شناخت ہوئی ہے تاہم حکام کے مطابق یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔

مسجد میں کیا دیکھا
غازی کی تدفین
آپریشن سائلنس مکمل
ہلاکتوں کے بعد جنازے، تدفین
لال مسجد اور جامعہ حفصہ سے تہتر لاشیں برآمد

یہ معلومات وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے جمعہ کی شام ایک اخباری کانفرنس میں صحافیوں کو فراہم کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کارروائی کے پہلے روز سے لے کر آج تک مجموعی طور پر ایک سو دو افراد ہلاک ہوئے جن میں سے اکانوے سویلین، دس فوج کے اور ایک رینجر کا اہلکار شامل تھا۔

ان کا کہنا تھا لال مسجد آپریشن میں ہلاک، زخمی اور گرفتار ہونے والے تمام افراد کی معلومات وزارت داخلہ کی ویب سائٹ پر اور سپورٹس کمپلیکس میں قائم معلومات کے مرکز پر فراہم کی جائیں گی۔ اس مرکز میں عملہ چوبیس گھنٹے موجود رہے گا۔

ان دس افراد کی شناخت شناختی کارڈز جاری کرنے والے ادارے نادرا نے انگلیوں کے نشانات کے ذریعے کی۔

وفاقی وزیر نے اعلان کیا کے جی سکس کے علاقے میں صبح چھ بجے سے کرفیو ختم کیا جا رہا ہے تاہم مسجد و مدرسے کے گرد یہ پابندی موجود رہے گی۔ اس علاقے میں لوگوں کو متبادل راستے بھی فراہم کیئے جائیں گے۔

آفتاب شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ ام حسان اور ان کی دونوں بیٹوں کے علاوہ سب عورتوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ صرف حیدر آباد کی ایک خاتون کو والدین کے آنے پر رہا کر دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کی تصاویر، فنگر پرنٹس اور ڈی این اے کے نمونے لے لیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کو باقاعدہ غسل، کفن کے ساتھ اسلامی طریقے سے دفن کیا گیا ہے۔

ان کا موقف تھا کہ ہر قبر کی شناخت موجود ہے اور رشتہ داروں کے شناخت کرنے کے بعد لاش ان کے حوالے کر دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ چھ یا سات مسخ شدہ لاشوں کی شناخت ممکن نہیں۔ انہوں نے تاہم اس خدشے کا اظہار کیا کہ ان لاشوں میں چند عورتوں کی بھی ہوسکتی ہیں۔