Friday, 13 July, 2007, 10:21 GMT 15:21 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حکومت نے لال مسجد میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے بعد ردعمل کے خدشے اور احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی بڑھا دی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ صدارتی کیمپ راولپنڈی میں صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں ایک اعلی سطحی اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں حکمراں مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اعجاز الحق، وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ، وزیر برائے اطلاعات محمد علی درانی، طارق عظیم اور ظفر اقبال وڑائچ کے علاوہ کئی دیگر سرکاری اہلکاروں نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں لال مسجد آپریشن کے بعد کی صورتحال پر تفصیلی غور کے علاوہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل کے بارے میں بھی فیصلے کیے گئے۔
صدر جنرل پرویز مشرف نے اجلاس میں چاروں صوبائی حکومتوں کو امن عامہ یقینی بنانے کے علاوہ آپس میں رابطے بہتر بنانے کی ہدایت جاری کیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف اپنی حکومت کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
سرکاری خفیہ ادارے پہلے ہی اپنے مراسلوں میں سکیورٹی اداروں کو مختلف ممکنہ حملوں کی اطلاعات دے چکے ہیں۔
صدر مملکت نے وزیر اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ عوام کو لال مسجد
میں آپریشن کے خلاف کارروائی کی وجوہات اور حقائق سے آگاہ کریں۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کو کہا گیا ہے کہ وہ وفاق المدارس اور علماء سے رابطے کریں تاکہ غلط فہمیوں کو دور کیا جاسکے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت کے لیے زیادہ تشویش گزشتہ چند روز میں قبائلی علاقوں میں سرکاری اہداف پر حملوں میں غیرمعمولی اضافے سے ہے۔ باجوڑ اور وزیرستان اس قسم کے حملوں میں بڑی تعداد میں جانی نقصان ہوا ہے۔
حکومت نے پہلے ہی بٹگرام اور سوات میں تشویشناک صورتحال کے پیش نظر فوج تعینات کر دی ہے۔