http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 13 July, 2007, 17:17 GMT 22:17 PST

رفاقت علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’ہلاکتوں کی تحقیق نہیں ہوگی‘

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کہا ہے کہ وہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں ہلاکتوں کے بارے میں متضاد دعوؤں کے حوالے سے کوئی تحقیق شروع نہیں کرے گی۔

لال مسجد اور جامعہ حفصہ سے متعلق انسانی حقوق کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس محمد نواز عباسی نے کہا کہ عدالت موجودہ حالات میں جہاں تک ممکن ہے لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش رہی ہے، لیکن آپریشن کے دوران ہلاکتوں کے متضاد دعوؤں کی تحقیقات شروع نہیں کرے گی۔

مقدمے کی سماعت کے دوران وکیل اکرام چودھری نے کہا کہ حکومت کی طرف سے آپریشن میں مرنے والے لوگوں کے بارے میں اعداد و شمار جھوٹ کا پلندہ ہیں اور اسلام آباد میں واقع سرحد بلوچستان کولڈ سٹوریج میں اب بھی چار سو پچاس لاشیں رکھی ہیں۔

کمرہ عدالت میں موجود چیف کمشنر اسلام آباد خالد پرویز نے کہا کہ وہ واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ سرحد بلوچستان کولڈ سٹوریج میں کوئی لاش نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کولڈ سٹوریج کو ہنگامی صورتحال میں استعمال کرنے کا سوچا ضرور گیا تھا، لیکن وہاں کوئی لاش موجود نہیں ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ لال مسجد آپریشن کے دوران ایک سو دو (102) لوگ ہلاک ہوئے، جن میں دس فوجی کمانڈو، ایک رینجر، جبکہ اکانوے سویلین تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مرنے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو تین جولائی سے دس جولائی تک مختلف واقعات میں ہلاک ہوئے۔

حکومت کی طرف سے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف آپریشن کے بارے میں رپورٹ پر نا پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے بینچ کے سربراہ جسٹس محمد نواز عباسی نے کہا کہ حکومت عدالت کے ساتھ مذاق کر رہی ہے۔

حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ وہ جی سِکس کے علاقے سے کرفیو اٹھانے پر غور کر رہی ہے۔ عدالت نے حکومت کو حکم دیا کہ اگر ضروری ہو تو کرفیو کو صرف لال مسجد اور جامعہ حفصہ اور اس کے قریبی علاقے تک محدود کر لے۔

وزارت داخلہ اور اسلام آباد انتظامیہ کے افسران جن میں بریگیڈئر (ریٹائرڈ) جاوید اقبال چیمہ، چیف کمشنر اسلام آباد خالد پرویز، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چودھری محمد علی، انسپکٹر جنرل پولیس افتخار چودھری عدالت میں موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ ایک کے سوا تمام خواتین کوان کے گھروں میں پہنچا دیا گیا ہے جبکہ بہاولپور سے تعلق رکھنے والے سمیہ خاتون کو لینے کے لیے ابھی تک کو ئی نہیں پہنچا ہے۔ عدالت نے حکومت کو حکم جاری کیا کہ وہ سمیہ خاتون کو بحفاظت ان کے گھرپہنچانے کے انتظامات کرے۔

حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ مدرسے کے مہتمم مولانا عبد العزیز کی بیوی ماجدہ یونس المعروف ام حسان اور بیٹیاں طیبہ دعا اور اسماء دعا سات روزہ ریمانڈ پر پولیس کے پاس ہیں۔

چیف کشمنر اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف آپریشن کے اختتام پر پچھتر لاشیں ملی تھیں، جن میں دس کی شناخت کر لی گئی ہے جبکہ باقیوں کی شناخت کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

چیف کمشنر نے کہا کہ بعض لاشیں مکمل طور پر جل چکی ہیں اور حکومت نے ان کی شناخت کے لیے جہاں تک ممکن ہو سکا ان کے فنگر پرنٹس حاصل کیے ہیں اور تمام لاشوں سے ڈی این اے نمونے بھی حاصل کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مرنے والوں کے ڈی این اے نمونوں کا ان کے ورثاء کے ڈی این اے نمونوں سے موازنہ کرنے کے بعد لاشوں کو ورثاء کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔

حکومتی اہلکاروں نے بتایا کہ آپریشن میں مرنے والوں کو امانتاً اسلام آباد میں دفن کیا گیا ہے۔