Thursday, 12 July, 2007, 21:00 GMT 02:00 PST
شاہ زیب جیلانی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما بینظیر بھٹو نے اس زور پکڑتے تاثر کی پُر زور نفی کی ہے کہ ان کی جماعت کا حزبِ اختلاف کے وسیع اتحاد میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ مشرف حکومت کے ساتھ ممکنہ سمجھوتے کے مدِنظر کیا گیا ہے۔
لندن میں جمعرات کی شام اخباری کانفرنس سے خطاب میں پاکستان کی سابق وزیرِاعظم نے کہا کے مشرف حکومت کے ساتھ ہماری بات چیت سن ننانوے سے وقتًا فوقتاً جاری ہے لیکن یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ مشرف حکومت کے خلاف وسیع عوامی مہم شروع کرنے کا ابھی وقت نہیں آیا اور اس کا تعین کرنے میں جلد بازی سے کام نہیں لیا جائے گا۔ انہوں نے مستقبل میں کسی مرحلے پر گرینڈ الائنس کی مشرف مخالف تحریک میں شامل ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔
پریس کانفرنس میں بعض مرحلوں پر متحدہ مجلسِ عمل بینظیر بھٹو کی خاص تنقید کا نشانہ نظر آئی۔ بینظیر بھٹو نے کہا: ’ہمارے ایم ایم اے کے بارے میں تحفظات اور خدشات ہیں کہ وہ حکومت میں ہوتے ہوئے کس طرح حزبِ اختلاف کی تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا ماضی میں ایم ایم اے نے ایل ایف او کے خلاف جدوجہد میں حزبِ اختلاف کو استعمال کیا اور بعد میں جا کر جنرل مشرف کو وردی میں صدر رہنے کا راستہ فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم انتہاپسندوں اور ایسی جماعتوں کے ساتھ ایک نہیں ہو سکتے جنہوں نے ماضی میں دہشتگردی کی حمایت کی۔‘
بینظیر بھٹو کا اصرار تھا کہ نئے گرینڈ الائینس کی تشکیل کے باوجود اتحاد برائے بحالیء جمھوریت (اے آرڈی) اپنی جگہ پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک اے آر ڈی کی کسی جماعت نے اتحاد کے چیئرمین کو اتحاد سے علیحدہ ہونے کا نوٹس نہیں دیا۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس بات کا امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں اے آر ڈی کی کچھ جماعتیں اتحاد سے علیدگی کا فیصلہ کریں۔
اخباری کانفرنس میں بینظیر بھٹو نے عام انتخابات میں ووٹر لسٹوں سے متعلق مبینہ دھاندلی کے بارے میں اپنے خدشات پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔