عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں حکام کا کہنا ہے کہ سکاؤٹس قلعے پر ہونے والے راکٹ حملوں میں آٹھ اہلکار زخمی ہوگئے ہیں جبکہ لال مسجد کے آپریشن میں ہلاک ہونے والے تین طلبہ کی تدفین کے موقع پر مقامی طالبان نے اسلام آباد میں خودکش حملے کرنے کی دھمکی دی ہے۔
دوسری طرف باجوڑ کے تحصیل ناوگئی میں جمعرات کی صبح سینکڑوں افراد نے لال مسجد کے خلاف فوجی آپریشن کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے تین طلباء کی نماز جنازہ میں شرکت کی ہے۔اس موقع پر تقریباً چار سو مسلح اور نقاب پوش طالبان بھی موجود تھے۔
مقامی صحافی مسعود خان نے بی بی سی کو بتایا کہ تدفین کے بعد مومند ایجنسی میں مقامی طالبان کے سربراہ عبدالولی نے لال مسجد کے خلاف آپریشن کی مذمت کرتے ہوئے دھمکی دی کہ ہلاک ہونے والوں کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی کارروائیوں کے ذریعے جنرل پرویز مشرف جہاد کے جذبے کو ختم نہیں کرسکتے اور بقول ان کے اسلام آباد میں خود کش حملے کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ لال مسجد کے خلاف ہونے والے آپریشن میں ہلاک ہونے والوں میں اب تک چار طالبعلوں کی لاشیں باجوڑ پہنچائی گئی ہیں جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ باجوڑ سے تعلق رکھنے والے کئی طالبعلموں کی لاشیں انہیں نہیں دی جا رہی ہیں۔