Tuesday, 10 July, 2007, 06:13 GMT 11:13 PST
بیورو رپورٹ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام،اسلام آباد
اس سے قبل پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ لال مسجد میں کتنے غیر ملکی شدت پسند تھے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت نے یہ آپریشن پاکستان سے باہر کسی کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا۔
اپنی پہلی بریفنگ میں انہوں نے بتایا تھا کہ آپریشن کے شروع ہونے کے بعد سے ستائیس بچے باہر آ چکے ہیں۔ جامعہ حفصہ سے باہر آنے والی ستائیس خواتین جنہوں نے خود کو حُکام کے حوالے کیا ہے اُن میں مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ اور جامعہ حفصہ کی سربراہ اُم حسان بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا ابھی مزید بچے اور خواتین تہہ خانوں میں موجود ہیں جس کی بنا پر سیکیورٹی فورسز کو انتہائی محتاط انداز میں آگے بڑھنے کو کہا گیا ہے۔
میجر جنرل وحید ارشد نے بتایا کہ مسجد اور مدرسے میں مورچہ بند شدت پسندوں کے پاس راکٹ لانچروں اور دستی بموں سمیت ہر قسم کے ہتھیار موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ حفصہ میں پچہتر کمرے اور تہہ خانے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر کمرے، برامدے اور تہہ خانے سے مزاحمت ہو رہی ہے۔
مسجداور مدرسے کے خلاف آپریشن کو سرکاری طور پر ’آپریشن سائلنس‘ کا نام دیا گیا تھا جس کے دوران وفاقی دارالحکومت شدید فائرنگ اوردھماکوں کی آوازوں سے گونجتا رہا۔
اس فوجی آپریشن کے دوران لال مسجد اور چار منزلوں پر مشتمل جامعہ حفصہ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ہر کوئی جلدی میں ہے۔۔۔۔ |
صبح چار بجے شروع کیئے جانے والے اس آپریشن میں جو آخری اطلاعات آنے تک جاری ہے زخمی ہونے والوں کی حتمی تعداد معلوم نہیں ہو سکی ہے۔
ادھر حکام نے صحافیوں کے راولپنڈی اور اسلام آباد کے ہسپتالوں میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ تاہم بڑی تعداد میں ایمبولینسوں کے ذریعے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ دونوں شہروں کے تمام ہپستالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور اسلام آباد کے ہپستالوں میں عام مریضوں کو بھی آنےنہیں دیا جا رہا۔
ہسپتال جانے والے صحافیوں کے مطابق انہیں بتایا گیا ہے کہ اگر میڈیا کے کسی شخص کو ہسپتال میں دیکھا گیا تو اسے گولی مار دی جائے گی۔
لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے علاقے میں بدستور کرفیو نافذ ہے اور منگل کی صبح کرفیو میں نرمی کے وقفے کو بھی منسوخ کر دیا گیا۔
آپریش شروع ہونے کے بعد مسجد اور مدرسے کے احاطے سے بیس کے قریب بچے نکل کر بھاگے تھے جنہیں سکیورٹی فورسز نے اپنی حفاظت میں لے لیا تھا۔
لال مسجد اور حکومت کے درمیان گزشتہ رات اس وقت مسئلے کا مذاکرات کے ذریعے حل نکلنے کی امید پیدا ہو گئی تھی جب سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین کی قیادت میں ایک وفد نے علماء کے ذریعے مسجد اور مدرسے کے مہتمم عبدالرشید غازی سے بات چیت شروع کی تھی۔
سوموار کو رات گئے حکومتی وفد نے عبدالرشید غازی سے بات چیت کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی ملاقات کی تھی۔ تاہم رات کسی وقت مذاکرات ناکام ہوگئے جس کے بعد منگل کی صبح چار بجے کے قریب فوجی آپریشن کا فیصلہ کن دور شروع ہوگیا۔
(ہارون رشید، نیئر شہزاد، محمداشتیاق، اعجاز مہر)