Tuesday, 10 July, 2007, 06:57 GMT 11:57 PST
نیئر شہزاد
اسلام آباد
مسجد حفصہ اور لال مسجد میں مورچہ بند شدت پسندوں کے خلاف کارروائی سے قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو مکمل طور پر سیل کر دیا تھا اور کسی شخص اور گاڑی کو شہر میں داخل یا شہر سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔
ہزاروں افراد کوجن میں سرکاری اہلکار بھی شامل ہیں اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا گیا اور متعدد افراد جو راولپنڈی اور دوسرے شہروں کو جانا چاہتے تھے ان کو اسلام آباد چھوڑنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
تاہم صرف ایمبولنس گاڑیوں کو شہر میں داخل ہونے یا جانے کی اجازت تھی۔
راولپنڈی پولیس کے ایک ہزار سے زائد اہلکاروں کو بھی اسلام اباد بھیج دیا گیا تاکہ سکیورٹی کے امور میں اسلام آباد کی انتطامیہ کا ہاتھ بٹا سکیں۔
واضح رہے کہ پنجاب کانسٹبلری کے پندرہ سو سے زائد اہلکار پہلے ہی سے اسلام آباد میں موجود ہیں۔
ڈی آئی جی راولپنڈی سید مروت علی شاہ نے بتایا کہ اس آپریشن کے دوران شہر کوبھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان پولیس اہلکاروں کو کسی بھی ناخوشگوار صورت حال سے نمٹنے کے لیے وفاقی دارالحکومت میں بیھجا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اقدام حفاظتی نقطہ نظر کے تحت اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دن دس بجے کے بعد اسلام آباد آنے والی ٹریفک کھول دی گئی تاہم ان گاڑیوں کو کرفیو والے علاقے میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔
آپریشن کے دوران کرفیو کے علاقے جی سکس میں مکینوں کو گھروں سے نہیں نکلنے دیا گیا۔ واضح رہے کہ اس علاقے میں زیادہ تر مکینوں کی تعداد سرکاری ملازمین پر مشتمل ہے اور سرکاری ملازمین ضلعی حکومت کی طرف سے جاری کردہ پاسز کے باوجود اپنی ڈیوٹی پر نہیں جا سکے۔
حکومت نے اسلام آباد کے تین ہسپتالوں میں جن میں پولی کلینک، پمز اور سی ڈی اے ہسپتال شامل ہیں سکیورٹی سخت کر کے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور وہاں پر ایمرجنسی میں موجود ایسے مریضوں کو جن کی حالت خطرے سے باہر تھی فوری طور پر دوسرے وارڈز میں داخل کر وادیا گیا جبکہ مریضوں کے لواحقین کو ہسپتال سے نکال دیا گیا۔
فوج اور پولیس کے جوانوں نے ان ہسپتالوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
ہسپتال میں موجود ذرائع ابلاغ کےنمائندوں کو بھی ہسپتال سے چلے جانے کا حکم دیا گیا اور ساتھ میں دھمکی دی گئی کہ اگر انہوں نے ہسپتال سے نہیں نکلے تو انہیں گولی مار دی جائے گی۔ تاہم فوج کے ترجمان نے اس حکم سے لاعلمی کا اظہار کیا۔