Tuesday, 10 July, 2007, 07:48 GMT 12:48 PST
لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف بارہ گھنٹے سے جاری آپریشن کے باوجود سکیورٹی فورسز کے دستے مسجد کے مہتمم عبدالرشید غازی تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔
پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد کے مطابق مسجد اور مدرسے کے پچاسی فیصد حصے پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور انہوں نے عبدالرشید غازی اور شدت پسندوں کو مدرسے کے جنوبی حصوں تک محدود کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عبدالرشید غازی یا تومدرسے کے جنوبی حصے میں واقع تہہ خانوں یا پھر اپنی مدرسے سے ملحقہ اپنی رہائش گاہ میں موجود ہیں۔
حکام کے مطابق پچاس کے قریب شدت پسندوں نے ہتھیارڈالے دیے ہیں اور ان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آپریشن کرنے والے فوجی دستوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عبدالرشید غازی کو گرفتار کرنے کی حتی الامکان کوشش کریں۔
آپریشن کے آخری مراحل میں جامعہ حفصہ کے عقبی حصوں سے شدید دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔
فوجی ذرائع کا کہنا ہے اُنہوں نے چار بار غازی عبدالرشید کو کہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو فوج کے حوالے کر دیں۔ جامعہ حفصہ میں اب بھی فائرنگ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ کور کمانڈر راولپنڈی جنرل طارق مجید نے علاقے کا دورہ کیا ہے۔