http://bbc.com.im/urdu/

لال مسجد: کشیدگی برقرار

پیر کی صبح کو اسلام آباد میں لال مسجد کے اطراف کشیدگی برقرار تھی۔ رات گئے دونوں جانب سے ہلکی فائرنگ کے بعد خاموشی چھا گئی اور کچھ اطلاعات کے مطابق مسجد کے اوپر ایک چھوٹے ساخت کا طیارہ پرواز کرتا رہا۔ کچھ صحافیوں نے اس کو ایک ’جاسوس طیارہ‘ بتایا ہے۔

ساڑھے بارہ اور ڈھائی بجے کے درمیان دونوں جانب سے ہلکی فائرنگ ہوئی جس کے بعد خاموشی رہی۔ سکیورٹی اہلکاروں نے کئی مرتبہ لاؤڈ سپیکروں پر لال مسجد کے اندر افراد سے ہتھیار ڈالنے اور اپنے آپ کو قانون کے حوالے کرنے کو کہا۔

آج لال مسجد اور حکام کے درمیان اس لڑائی کا ساتواں دن ہے۔ اب تک اس لڑائی میں کم سے کم اکیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

آبپارہ تھانے میں مولانا عبد الرشید غازی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف لیفٹننٹ کرنل ہارون اسلام کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ لیفٹننٹ کرنل ہارون اسلام سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات مارے گئے تھے۔

مسجد میں کئی مطلوب دہشتگرد کا کنٹرول ہے: اعجاز الحق

وفاق المدارس کا وفد آج اسلام آباد میں وزیر اعظم اور صدر سے ملاقات کرے گا۔ اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ کے رہنما شجاعت حسین کے علاوہ وفاقی وزیر برائے مذھبی امور اعجاز الحق بھی اس اجلاس میں شامل ہونگے۔

وفاق المدارس نے اتوار کو ایک اجلاس کے بعد حکومت سے سیز فائر کا مطالبہ کیا تھا۔ وفاق المدارس کے مرکزی عہدیدار حنیف جالندھری نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار احمد رضا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کو مکمل جنگ بندی کرتے ہوئے لال مسجد کے لوگوں سے بات کر کے مسئلے کا حل نکالنا چاہیے۔

’سیزفائر کریں اور بیٹھ کر بات کریں‘
لال مسجد کے طلباء کی رہائی
محاصرہ، فائرنگ، سرنڈر
ایس ایس جی کمانڈو کرنل ہلاک
’تیس طالبات اجتماعی قبر میں دفنائیں‘
رشتہ داروں کی پریشانی

فائرنگ، خاموشی، براہ راست نشریات بند
اتوار کو شام ساڑھے آٹھ بجے کے قریب شروع ہونے والی فائرنگ گھنٹہ بھر جاری رہنے کے بعد بند ہو گئی لیکن پھر رات دیر بھی فائرنگ کی آوازیس سنی جا سکیں ۔ اتوار کو سکیورٹی حکام نے جی سِکس کے علاقے میں واقع پریس کلب کو اپنے کنٹرول میں لے کر سر بمہر کر دیا اور وہاں موجود چند صحافیوں کو وہاں سے چلے جانے کے لیے کہا جو براہ راست صورتحال پیش کر رہے تھے۔ پریس کلب اسی علاقے میں واقع ہے جہاں کرفیو نافذ ہے۔