Monday, 09 July, 2007, 17:47 GMT 22:47 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پشاور میں تین چینی باشندوں کی ہلاکت پر پاکستان میں نا صرف سرکاری بلکہ نجی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
چینی حکومت نے ان تازہ ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے اپنے شہریوں کے لیے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں چینی سفارت خانے کی جانب سے جاری ایک بیان میں حکومت سے پشاور کے واقعے میں ملوث افراد کی گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
سفارت خانے کے مطابق اصل صورتحال جاننے کے لیے ان کے نائب سفیر ماو سیوی دیگر سفارتکاروں کے ساتھ پشاور پہنچے ہیں۔ ادھر حکومت پاکستان نے بھی واقعے کی مذمت کی ہے اور ملزمان کی گرفتاری کی یقین دہانی کرائی ہے۔
میں نے یہ سوال اس سلسلے میں جب سابق سفارتکار نجم الدین شیخ سے یہ پوچھا گیا کہ، یہ یقین دہانیاں چینی خدشات دور کرنے میں کتنی موثر ہوں گی، تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے مکمل یقین دہانی کرانا مشکل ہوگا ’چینی جو پشاور گئے ہیں وہ جو رپورٹ تیار کریں گے وہ کوئی اچھی نہیں ہوگی‘۔
لال مسجد کے طلبہ کی جانب سے اسلام آباد میں ایک چینی مساج سینٹر سےگزشتہ دنوں نو افراد کو اغوا کرنے کے واقعے کے بعد حکومت پر کارروائی کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوا تھا۔
شہروں میں حملے ناقابلِ قبول |
پشاور میں اتوار کا حملہ چینیوں پر پہلا حملہ نہیں۔ اس سے قبل دو ہزار چار میں بلوچستان کی گواردر بندرگاہ کی تعمیر میں مصروف تین اور قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں اغوا شدہ دو چینی کی رہائی کی کوشش کے دوران ایک چینی کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ گزشتہ برس حب میں سینمٹ پلانٹ میں کام کرنے والے تین چینیوں کی موت ہوئی تھی۔
اگرچہ اس بات کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوسکی لیکن عام تاثر یہی ہے کہ پشاور کے واقعے کا لال مسجد سے تعلق ہو سکتا ہے۔
اسلام آباد میں چینی باشندوں سے موجودہ حالات پر بات کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں ان کے سفارت خانے نے بات کرنے سے منع کیا ہے۔