Sunday, 08 July, 2007, 13:40 GMT 18:40 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کے رہنما بیت اللہ محسود نے لال مسجد کے خلاف آپریشن پرغم وغصے کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
اتوار کو بی بی سی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’مشرف نے جو طاقت کی زبان استعمال کی ہے وہ اسلام اور پاکستان دونوں کے لئے نقصان دہ ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں موجود لوگوں سے یوں تو ان کا کوئی تعلق نہیں لیکن اسلامی رشتہ ضرور ہے اور اس آپریشن میں ہونےوالے جانی نقصان پرانہیں دکھ پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’معصوم بچیوں کو جو درد پہنچا ہے اس کا ہم ایک ایک سے بدلہ لیں گے۔ پاکستان کی حالت عراق اور افغانستان سے بدترین ہوگی‘۔
بیت اللہ اپنے بیان میں کافی محتاط دکھائی دے رہے تھے اور انہوں نے اپنے بیان میں یہ نہیں بتایا کہ ردعمل کب تک آسکتا ہے۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ مشرف اور اس کے حواری کب تک اقتدار میں رہیں گے۔
بیت اللہ محسود پہلے قبائلی شدت پسند رہنما ہیں جو آپریشن کے آغاز کے بعد کسی بیان کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔تاہم اس سے قبل لال مسجد کی حمایت میں کمانڈر حاجی عمر بھی بیان دے چکے ہیں۔
بیت اللہ محسود نے سیاسی و مذہبی جماعتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ حالات مزید خراب ہونےسے پہلے بات چیت کے ذریعے اس مسئلہ کا کوئی حل تلاش کریں۔