http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 08 July, 2007, 17:19 GMT 22:19 PST

علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور

کرنل ہارون کی میت لاہور میں

اسلام آباد کے لال مسجد آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والےلفیٹفنٹ کرنل ہارون الاسلام کی میت لاہور میں کمبائنڈ ملٹری ہسپتال کے سرد خانے میں رکھ دی گئی ان کے ورثاء کے مطابق ان کی دوبہنوں کے بیرون ملک سے واپسی کا انتظار ہے اس لیے تدفین میں ایک دو روز لگ سکتے ہیں۔

کرنل ہارون اسلام آباد میں چھ روز سے جاری آپریشن سائیلنس میں کمانڈوز کےگروپ کے انچارج تھے اور ایک جھڑپ میں زخمی ہونے کے بعد کل رات دم توڑ گئے تھے۔

لاہور منتقل کیے جانے سے پہلے اتوار کی صبح ان کی نماز جنازہ راولپنڈی کے چکلالہ ائر بیس پرادا کی گئی جس میں صدرجنرل پرویز مشرف نے بھی شرکت کی۔

نماز جنازہ میں وائس چیف آف آرمی سٹاف جنرل احسان سلیم حیات سمیت سنیئر اور سول افسروں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ان کے بھائی ظفر میت کے ہمراہ لاہور آئے تھے۔

کرنل ہارون کے پسماندگان میں ایک بیوہ اور چار اور پانچ برس کی دوبیٹیاں شامل ہیں۔

لاہور میں اقبال ٹاؤن کے راوی بلاک میں ان کےگھر سوگوار آرہے ہیں ۔اہلخانہ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرنے یا کسی قسم کا بیان دینے سے انکار کردیا ہے۔ان کے بھائی ظفر نے فوٹوگرافروں اور کیمرہ مین کو گھر اور سوگواروں کی تصاویر بنانے سے بھی روک دیا۔

فوج کےمحکمہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر لاہور کے انچارج کرنل سجاد نے بی بی سی کوبتایا کہ محکمہ کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے یہ ان کے اہلخانہ کا ذاتی معاملہ ہے اور اس کا تعلق جذباتی کیفیت سے ہے۔

لیفٹنٹ کرنل ہارون الاسلام سنہ انیس سو اٹھاسی میں فوج کی سندھ رجمنٹ میں شامل ہوئے اور پانچ برس بعد فوج کے سپیشل سروسز گروپ کو جوائن کرلیا ان دنوں وہ کمانڈوز کی ایک بٹالین کے کمانڈنٹ تھے۔

چھ روز سے لال مسجد میں جاری آپریشن میں اب تک ہلاک ہونے والوں میں وہ سب سے بڑے عہدے کے فوجی افسر ہیں۔

لال مسجد میں محصور طلبہ وطالبات کی ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں لیکن حکام بیس کے قریب ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہیں لال مسجد کے غازی عبدالرشید اور ان کے ساتھی مزاحمت کار اپنے ہلاک شدگان کو شہید قرار دیتے ہیں۔

آئی ایس پی آر نے اپنی پریس ریلیز میں کرنل ہارون کی ہلاکت کو بھی شہادت قرار دیا ہے۔