http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 07 July, 2007, 14:53 GMT 19:53 PST

ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

حکومت وضاحت کرے: طالبان

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے حکومت سے وضاحت طلب کی ہے کہ وہ گزشتہ برس ستمبر میں ان کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے پر عمل درآمد میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔

مقامی طالبان کے ایک ترجمان عبداللہ فرہاد نے بی بی سی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے حکومت سے یہ مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت امن معاہدے کی سو میں سے دس فیصد بھی پاسداری نہیں کر رہی۔

قبائلی شدت پسندوں کو بظاہر تازہ ناراضگی رزمک روڈ پر سکیورٹی فورسز کی جانب سے نئی چوکیوں کے قیام سے ہوئی ہے۔ عبداللہ فرہاد کا کہنا تھا کہ یہ چوکیاں چاہے عارضی ہوں یا مستقل یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے ان چوکیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔

طالبان ترجمان نے ماضی قریب میں بھی کئی مواقعوں پر حکومت پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا۔ اس قسم کے بیانات فوجی کارروائیوں کے بعد سامنے آتے تھے لیکن اب چوکیوں کے قیام پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔

معاہدہ توڑنے سے گریز
 کئی بار کی شکایتوں کے باوجود مقامی طالبان نے حکومت سے معاہدہ توڑنے میں کی بات نہیں کی ہے تاہم وہ حکومت سے بار بار وضاحت طلب کرتے رہتے ہیں
 

کئی بار کی شکایتوں کے باوجود مقامی طالبان نے حکومت سے معاہدہ توڑنے میں کی بات نہیں کی تاہم وہ حکومت سے بار بار وضاحت طلب کرتے رہتے ہیں۔

مقامی طالبان نے گزشتہ برس ستمبر میں حکومت کے ساتھ ایک امن معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت حکومت پر نئی چوکیاں قائم نہ کرنے سے متعلق بھی ایک شق موجود تھی۔

مقامی طالبان کے اس مطالبے پر ابھی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔