Saturday, 07 July, 2007, 10:03 GMT 15:03 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
صدر جنرل پرویز مشرف نے دوسرے روز بلوچستان اور سندھ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا جہاں انہوں نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کافی وسائل ہیں اور ان علاقوں کی بحالی کے لیے ضرورت سے زیادہ فنڈز فراہم کریں گے۔
بلوچستان میں صدر نے جعفر آباد، نصیر آباد، جھل مگسی کے فضائی دورے کے بعد اوستہ محمد میں متاثرین سے خطاب میں کہا ہے کہ جن لوگوں کے مکانات بہہ گئے ہیں انہیں حکومت مکان تعمیر کر کے دے گی اور اس کے علاوہ سڑکوں اور نہری نظام کو جو نقصان پہنچا ہے اسے بحال کیا جائے گا۔
صدر نے گزشتہ روز بلوچستان کے مکران ڈویژن میں تربت کا دورہ کیا تھا اور وہاں جن لوگوں کے مکان گرے ہیں انہیں ابتدائی طور پر پندرہ پندرہ ہزار روپے دیے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں سیلاب اور بارشوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، پندرہ اضلاع بری طرح متاثر ہوئے ہیں جن میں سے کئی سے رابطے تاحال بحال نہیں ہو سکے لیکن صدر پرویز مشرف نے وقتی طور پر چند ہزار روپے نقد رقم دے دی ہے اور باقاعدہ منصوبے کا اعلان نہیں کیا ہے کہ یہاں بحالی کا کام کس طرح کیا جائے گا۔
فنڈز کی فراہمی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ اسی ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے جس کے لیے بین الاقوامی سطح پر مدد کی اپیل کی جائے۔