Saturday, 07 July, 2007, 13:57 GMT 18:57 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد میں لال مسجد کے گرد حالات سے اگرچہ سارا ملک ہی پریشان ہے تاہم اس غیریقینی صورتحال کا سب سے زیادہ شکار سیکٹر جی سکس کے مکین ہیں، جہاں یہ مسجد قائم ہے۔
سیکٹر جی سکس گزشتہ چار روز سے کرفیو کی زد میں ہے۔ حکام نے کرفیو میں سنیچر کو دو مرتبہ نرمی کی تاہم نقل وحرکت پر پابندی سے علاقے میں زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
اگرچہ علاقے کی زیادہ تر آبادی کشیدگی کے آغاز سے دیگر علاقوں کو منتقل ہوگئی تھی تاہم ابھی بھی بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھروں میں محصور ہیں اور کہیں اور جانے پر آمادہ نہیں ہیں۔
جی سکس سرکاری کواٹر کی ایک خاتون زہرا نے بتایا کہ ان کے خاوند کا کہنا ہے کہ موت اگر آنی ہوئی تو یہاں بھی آئے گی اور کہیں اور بھی۔
لال مسجد کے اردگرد فائرنگ اور دھماکوں سے یہاں کے بچے شدید سب خوفزدہ ہیں۔ فائرنگ اور دھماکوں میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ پہلے کرفیو میں نرمی کے دوران فائرنگ رک جاتی تھی لیکن اب نہیں۔ زہرا کا کہنا تھا: ’بچے تمام رات فائرنگ اور دھماکوں کی وجہ سے سو نہیں پاتے اور گود میں دبکے رہتے ہیں‘۔
![]() | |
| زیادہ تر آبادی کشیدگی کے آغاز سے دیگر علاقوں کو منتقل ہو چکی ہے |
اس علاقے میں صفائی کا نظام بھی درہم برہم ہے۔ گلیوں میں گندگی کے ڈھیر لگے ہیں جس سے تعفن اُٹھ رہا ہے اور بیماریوں کا خدشہ محسوس کیا جا رہا ہے۔
اس سیکٹر کے زیادہ تر لوگ سرکاری ملازم ہیں۔ انہیں پہلے دن سے ہی کرفیو کے باعث دفاتر پہنچنے میں دقت پیش آ رہی تھی لیکن اب انتظامیہ نے ان کے لیے خصوصی پاسز کا انتظام کیا ہے۔ ایک سرکاری اہلکار کے مطابق ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے جاری ہونے والے ان پاسز کی تعداد پانچ سو تک پہنچ چکی ہے۔
یوٹیلٹی سٹور کی جانب سےگاڑیوں میں متاثرہ علاقوں میں اشیاء خوردونوش کی ترسیل جاری ہے تاہم آٹے اور چینی کے حصول میں مشکلات ہیں۔
علاقائی ہوٹلوں اور مراکز میں کاروبار ٹھپ ہے۔ مسجد کے قریب ہی واقع ایک بڑا ہوٹل جہاں اکثر تقریبات ہوتی رہتی تھیں تقریباً بند ہے۔