Friday, 06 July, 2007, 08:22 GMT 13:22 PST
صدر جنرل پرویز مشرف کے خصوصی طیارے کے راولپنڈی کے فوجی ہوائی اڈے سے پرواز کے بعد گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئیں جن کے بارے میں شبہہ کیا جا رہا ہے کہ یہ صدر مشرف کو ہلاک کرنے کی ناکام کوشش تھی۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایک سینیئر سکیورٹی اہلکار نے نام خفیہ رکھے جانے کی شرط پر بتایا کہ ’یہ دہشت گردوں کی جانب سے صدر کے طیارے کو نشانے بنانے کی کوشش تھی جو ناکام ہو گئی۔ وہ لوگ جلد ہی فرار ہو گئے لیکن ہمارے سکیورٹی ادارے واقعہ کی تفتیش کر رہے ہیں۔‘
مذکورہ سینیئر سکیورٹی افسر کا کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف طیارے میں تھے لیکن افسر کا اصرار تھا کہ طیارہ گولیوں کی پہنچ سے باہر تھا۔
اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار کے مطابق چکلالہ کے فوجی ہوائی اڈے سے چند میل کے فاصلے پر واقع اصغر مال کے علاقے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک گھر کی چھت سے ایک طیارہ شکن گن، ایک مشین گن اور چلے ہوئے کارتوس برآمد کیے ہیں۔
![]() | |
| اہلکاروں نے اصغر مال کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا |
سکریٹری داخلہ کے مطابق ان ہتھیاروں میں سے صرف مشین گن استعمال کی گئی تھی اور پولیس کو صرف دیوار پر گولیوں کے نشانات ملے ہیں ’ جس سے لگتا ہے کہ مشین گن اتفاقیہ چل گئی تھی جس کے بعد چلانے والا وہاں سے فرار ہوگیا۔‘
کمال شاہ کا مزید کہنا تھا کہ مشین گن کی گولیوں کا نشانہ صدر مشرف کا طیارہ نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ گولیوں کی آوازیں طیارے کی روانگی کے بہت دیر بعد سنی گئیں۔ تاہم واقعہ کی تفتیش کرنے والے ایک سینیئر سکیورٹی اہلکار کا کہنا تھا کہ گولیوں کا نشانہ صدر مشرف کا طیارہ ہی تھا۔
ایک بلند عمارت سے بنائی گئی ایک ٹی وی رپورٹ میں سیکورٹی اہلکاروں کو ایک مکان کی چھت پر دکھایا گیا ہے جہاں ایک سیٹلائٹ ڈش کے ساتھ ایک گن دکھائی دیتی ہے جس کا رخ آسمان کی طرف تھا، تاہم اس سے یہ نہیں بتایا جا سکتا تھا کہ اس گن سے فائر ہوا ہے یا نہیں۔
![]() | |
صبح گیارہ بجے کے قریب ہونے والے اس واقعہ کے بعد پولیس اور دیگر اداروں کے اہلکاروں نے اصغر مال کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور وہاں سے نکلنے والے افراد کی جانچ پڑتال جاری ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق جس مکان سے طیارہ شکن توپ اور دیگر اسلحہ برآمد ہوا ہے وہ محمد شریف نامی شخص کی ملکیت ہے جو انہوں نے ایک ہفتہ پہلے ہی کرایہ پر دیا تھا۔ کرایہ دار اپنی بیوی اور دو چھوٹے بچوں کے ساتھ وہاں رہائش پذیر تھا۔ مبینہ واقعہ کے فوراً بعد وہ باریش شخص اپنے بیوی بچوں سمیت وہاں سے غائب ہو گیا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مالک مکان کو حراست میں لے لیا ہے اور اس سے فرار ہونے والے کرایہ دار کے بارے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
ایک عینی شاہد کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار ایک اور عمر رسیدہ شخص کو بھی اپنے ساتھ لے گئے ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے کرایہ دار کو اپنے بیوی بچوں سمیت صبح وہاں سے فرار ہوتے دیکھا تھا۔
علاقے کے ایک دوسرے رہائشی اکتیس سالہ آصف نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ انہوں نے ایک منٹ یا اس سے بھی کم وقفے میں دو دھماکوں کی آواز سنی اور اس کے بعد ایک شخص کو سوزوکی کار سے اے کے 47 قسم کی رائفل نکالتے ہوئے دیکھا۔ قریب کھڑے ایک پھل فروش کے مطابق اُس وقت ایک چھوٹا طیارہ فضا میں بلند ہو رہا تھا۔
مذکورہ مکان والی گلی کے ایک مکین محمد اسحاق کے مطابق انہوں نے دو دھماکوں اور اس کےفوراً بعد گولیاں چلنے کی آوازیں سُنیں۔ محمد اسحق کا کہنا تھا کہ یہ آوازیں اس وقت آئیں جب قریباً دس، ساڑھے دس کے وقت وہ اپنے بچوں کے ساتھ ناشتہ کر رہے تھے۔
جنرل مشرف کا طیارہ بحفاظت بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقے میں تربت پہنچ گیا جہاں انہوں نے امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔
واضح رہے کہ جنرل پرویز مشرف پر دسمبر دو ہزار تین میں دو قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں جن کے بارے میں کہا گیا تھا ان کے پیچھے القاعدہ کا ہاتھ تھا۔