http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 06 July, 2007, 20:37 GMT 01:37 PST

ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

لال مسجد: فائرنگ جاری، اکیس ہلاکتیں

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی فورسز لال مسجد اور اس سے منسلک جامعہ حفصہ کا محاصرہ جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ اطلاعات کے مطابق مبینہ طور پر مورچہ بند عبدالرشید غازی اور ان کے مسلح ساتھی ہتھیار ڈالنے پر تیار نہیں ہیں۔

جمعہ اور سنیچر کی شب لال مسجد کے اردگرد مزید فائرنگ کے واقعات ہورہے ہیں۔ رینجرز کے جوانوں اور لال مسجد میں محبوس مسلح افراد کے درمیان شدید فائرنگ سے مسجد اور جامعہ حفصہ کی دیواروں کو نقصان پہنچا ہے۔

دریں اثناء سکیورٹی فورسز نے لال مسجد کے منتظیمن کے کنٹرول میں چلنے والے جامعہ فریدیہ پر کنٹرول قائم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ جامعہ فریدیہ لال مسجد سے کئی کلومیٹر دور ہے۔ پولیس کے مطابق جامعہ فریدیہ کے طلبا بھی لال مسجد کی کشیدگی میں ملوث ہیں۔

’طالبات کو نکلنے نہیں دیا جارہا‘
فورم: لال مسجد فائرنگ، آپ نے کیا دیکھا؟
لال مسجد: آپریشن میں تعطل
لال مسجد: کیا کیا ہوا؟
رشتہ داروں کی پریشانی

وفاقی دارالحکومت میں لال مسجد کے اردگرد سکیورٹی فورسز اور مسجد کے اندر مورچہ بند ہتھیار بندوں کے درمیان جمعہ کی شام فائرنگ کے تبادلے میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد چار روز سے جاری آپریشن میں اب تک ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اکیس ہوگئی ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر چودھری محمد علی کے مطابق لڑکیوں نے دوران پوچھ گچھ بتایا کہ ابھی تک جامعہ حفصہ میں ایک ہزار کے قریب طالبات موجود ہیں جو مختلف ٹولیوں میں مختلف کمروں میں رہائش پذیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متعدد طالبات کے والدین جو انہیں لینے کے لیے آئے تھے، جب انہیں جامعہ بھیجا گیا تو وہاں پر موجود مسلح افراد نے دھمکیاں دیں کہ وہ واپس چلے جائیں کیونکہ ان کے بچوں کو واپس نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ مسلح افراد نے ایک شخص پر فائرنگ کر دی جب وہ اپنی بچی کو لینے کے لیے جامعہ حفصہ لینے کے لیے گیا تھا۔ فائرنگ سے اس کا پاؤں زخمی ہو گیا۔

ادھر معلوم ہوا ہے کہ متحدہ مجلس عمل کے ارکان پارلیمنٹ کا ایک وفد جامعہ حفصہ تک جانے کی کوشش کر رہا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق رشید غازی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے ہتھیار ڈالنے کی بجائے ’شہید‘ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہتھیار ڈالنے والوں کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ رشید غازی عورتوں اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

باہر آنے والے بعض نوجوانوں نے حکومتی اداروں کو بتایا ہے کہ لال مسجد کے اندر مورچہ بند مسلح افراد طلبا و طالبات کو باہر نہیں آنے دے رہے اور لڑکے اور لڑکیاں اپنے والدین سے ملنے کے لیے بے تاب ہیں۔

جمعہ کی صبح چودہ افراد جن میں تین لڑکیاں بھی شامل ہیں کسی طرح سکیورٹی فورسز تک پہنچنے میں کامیاب رہی ہیں۔ ان میں سے چند کے کپڑوں پر خون بھی دیکھا گیا ہے تاہم وہ بظاہر زخمی دکھائی نہیں دیتے تھے۔ بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات کے پریشان و بےبس والدین باہر کرب سے گزر رہے ہیں۔
جمعہ کو بھی لال مسجد سے نکل کر کچھ طلبا نے گرفتاری دی ہے
باہر آنے والے چند افراد نے مسجد میں غیرملکی افراد کی موجودگی کی بھی بات کی ہے تاہم اس کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

لال مسجد کے ہتھیار بندوں کے خلاف جاری آپریشن اور کرفیو کی وجہ سے جی سکس کے رہائشی مشکلات کا شکار ہیں اور بہت سے خاندان نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

لال مسجد کے خطیب اور غازی عبدالرشید کے بڑے بھائی مولانا عبدالعزیز کو بدھ کی رات اس وقت گرفتار کر لیا گیا تھا جب وہ برقعہ پہنے مسجد سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔

دریں اثناء راولپنڈی کے مختلف مدرسوں کے طلباء نے جمعہ کے روز لال مسجد پر آپریشن کے خلاف احتجاج کے طور پر کیرج فیکٹری کے قریب پیر ودھائی روڈ کو بلاک کر دیا اور وہاں سے گزرنے والی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔

آخری اطلاعات آنے تک راولپنڈی اور اسلام آباد کی پولیس احتجاج طلبا کو منتشر کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔