Thursday, 05 July, 2007, 17:57 GMT 22:57 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
فرار ہونے کے لیے مولانا عبدالعزیز کی برقعہ اوڑھ کر جانے کی کوشش نے ان کے حامیوں کے عزم کو متزلزل کردیا ہے۔
حکومتی آپریشن کے بعد پاکستان کے کئی علاقوں میں لال مسجد کے حق میں مختلف مدارس کے علماء اور طالبان کی جانب سے مظاہرے کیے گئے تھے۔
مولانا فضل اللہ نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئےان کے برقعہ میں فرار ہونےکی کوشش کوتنقید کا نشانہ بنایا۔
انکا کہنا تھا کہنا ’مولانا عبدالعزیز کا یہ طریقہ کار مجھے بالکل پسند نہیں آیا بلکہ میں تو چاہ رہا تھا کہ وہ آخری سانس تک مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوجاتے۔اگر وہ شہید ہوتے تو اس کا کافی زیادہ اثر ہوتا‘۔
تاہم مولانا فضل اللہ کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی مولانا عبدالعزیز کی حمایت کرتے ہیں لیکن انکی اس طرح کی گرفتاری کے بعد نیا لائحہ عمل اپنانے پر غور کر رہے ہیں۔
کشت و خون سے بچنے کے لیے برقعہ |
مراد خان سے پوچھا گیا کہ انہیں مولانا عبدالعزیز کا گرفتار ہونا کیسا لگا؟ ’میں نے جب اخبار میں مولانا عبدلعزیز کی برقعے میں گرفتاری کی خبر دیکھی تو مجھے بہت برا لگا کیونکہ انہوں نے پرائے بچوں کو تو میدان جنگ میں چھوڑدیا اور خود بھاگ گئے۔ جب انکا مشن پورا نہیں ہوا تھا تو وہ بھاگ کیوں رہے تھے‘۔
چارسدہ ہی میں بدھ کو جامعہ رشیدیہ کے مہتمم مولانا تحمیداللہ کی سربراہی میں ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا تھا اور انکا دعوی ہے کہ وہ گزشتہ چھ ماہ سے لال مسجد کی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں تھے۔
شہید ہوتے تو اس کا کافی زیادہ اثر ہوتا |
انکا مزید کہنا تھا کہ’ مذہبی لباس پہننے والا اگر زنانہ لباس میں فرار ہونے کی کوشش کرے تو یہ مسلمانوں کی توہین کرنے کے مترادف ہے‘۔
تاہم مولانا عبدالعزیز نے پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ انہوں نے بڑے پیمانے پر ہونے والے کشت خون سے بچنے کے لیے برقعہ اوڑھ کر فرار ہونے کا راستہ اختیار کیا۔