Thursday, 05 July, 2007, 15:37 GMT 20:37 PST
رفاقت علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے مقدمے کی سماعت کرنے والے تیرہ رکنی فل کورٹ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن نےکہا کہ ’اگر‘ چیف جسٹس کے مقدمے کا فیصلہ آیا تو تاریخی ہو گا۔
وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم کے دلائل کے دوران فل کورٹ کے ایک ممبر جسٹس محمد نواز عباسی نے کہا کہ جس انداز سے وفاقی حکومت کے وکیل دلائل دے رہے ہیں اس طرح تو عدالت کسی بھی نتیجے پر نہیں پہنچ پائے گی۔
بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ تاریخی ہوگا اور ہنستے ہوئے کہا کہ ’اگر آیا تو‘۔
وفاقی حکومت کے وکیل نے جواباً کہا ’انشا اللہ آئے گا اور اچھا آئے گا‘۔ وفاقی حکومت کے وکیل نےکہا کہ ’عدالت کے سامنے مقدمہ یہ ہے کہ کہیں چیف جسٹس کا رویہ ایسا تو نہیں جو ایک جج کے شایان شان نہ ہو‘۔
وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام جہموریت ہے جس میں صدر مملکت وزیراعظم کے مشورہ پر عمل کرتے ہیں۔ اس پر جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے وکیل سے کہا کہ سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان میں کونسا نظام رائج ہے۔
![]() | |
| چیف جسٹس کے حق میںوکلاء کا مظاہرہ |
وفاقی حکومت کے وکیل نے بارہا عدالت سے کہا کہ صدر مملکت وزیراعظم کا مشورہ ماننے کا پابند ہے اور چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ بھی وزیراعظم کے مشورے سے ہی کیا گیا تھا۔
ایک موقع پر وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن انہیں یہ کہہ کر چھیڑ رہے ہیں کہ کیا لال مسجد کے خلاف آپریشن کا فیصلہ بھی وزیراعظم کے مشورے سے کیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم نے اپنے دلائل کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ صدر کا پارلیمنٹ سے سالانہ خطاب بھی حکومت لکھتی ہے اور ایک بار تو اسی نکتے پر صدر اسحاق خان اور وزیراعظم بینظیر بھٹو کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔ اس پر چیف جسٹس کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت کے صدر اسحاق خان نے حکومت کی طرف سے تیار کی جانے والی تقریر کو پڑھنے سے انکار کر دیا تھا۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ وہ تو زبردستی کا معاملہ تھا تو اعتزاز احسن نے کہا کہ معاملہ اب بھی زبردستی کا ہے۔
جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا کہ جب صدر اسحاق خان اور محترمہ بینظیر بھٹو کے درمیان تنازعہ کھڑا ہوا تو سید شریف الدین پیرزادہ نے صلح کرائی تھی۔
ملک قیوم نے کہا کہ وہ سید شریف الدین پیرزاوہ کو اپنا ’استاد‘ مانتے ہیں لیکن اعتزاز احسن نہیں مانتے۔ اس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ سید شریف الدین پیرزادہ یہ صلح کرواتے وقت بھی ایک ڈکٹیٹر کے ہاتھ مضبوط کر رہے تھے۔
جسٹس خلیل الرحمن نے کہا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ملک قیوم سید شریف الدین پیرزادہ کے دوست ہیں یا دشمن۔ انہوں نے کہا کہ وہ شریف الدین پیرزادہ کی شان میں ایک جملہ کہہ دیتے اور دوسری جانب سے شریف الدین کی مخالفت میں ایک طوفان برپا ہوجاتا ہے۔
![]() | |
| سپریم کورٹ کی تیرہ رکنی فل کورٹ بنچ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے مقدمے کی سماعت کر رہی ہے |
وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں لوگ اداروں کی عزت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کاب کہنا تھا کہ صدر پر لازم ہے کہ وہ سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش کو من و عن تسلیم کرے۔ جسٹس محمد نواز عباسی نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 209 میں لکھا کہ صدر اگر چاہے تو سفارشات کو مان لے۔
وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ صدر کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارشات کو ماننا لازم ہے۔ اس نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے ملک قیوم نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ ججوں کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس کے ساتھ صدر کے مشورے کو ایسے معنی پہنا سکتی ہے کہ صدر پر لازم ہے کہ وہ چیف جسٹس کے مشورے کو مانے تو پھر عدالت یہ کیوں نہیں مان سکتی کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش کو ماننا بھی صدر کے لیے لازمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ نے یہ قرار دیا کہ صدر کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش کو ماننا لازم نہیں ہے تو عدلیہ اپنی آزادی پرسمجھوتہ کر رہی ہو گی اور عدلیہ انتظامیہ کے کنٹرول میں آ جائے گی۔ ’میں ایگزیکٹو کا وکیل ہوں، ساری طاقت آپ کو دے رہا ہوں لیکن آپ مانتے ہی نہیں ہیں‘۔
کب کون دلائل دے گا |
وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ وہ پیر کو اپنے دلائل مکمل کر لیں گے جس کے بعد اٹارنی جنرل مخدوم علی اپنے دلائل دیں گے اور ان کے بعد صدر پرویز مشرف کے وکیل سید شریف الدین پیرزادہ اپنے دلائل شروع کریں گے۔
مقدمے کی آئیندہ سماعت پیر کو ہو گی۔