Thursday, 05 July, 2007, 20:12 GMT 01:12 PST
عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، لاہور
پاکستان میں نمائندہ وکلاء تنظیموں نے سات جولائی کو لندن میں مسلم لیگ (ن) کی میزبانی میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان کے خلاف صدارتی ریفرنس سے پیدا ہونے والی صورت حال میں وکلاء انجمنوں کے لیے اے پی سی میں شرکت کرنا ناممکن ہے۔
جمعرات کو پاکستان بار کونسل کے رکن رمضان چودھری نے ایک اخباری پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان بارکونسل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور صوبائی بارکونسلوں کے عہدیداروں کو سابق وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے اے پی سی میں شرکت کے دعوت نامے بھجوائے گئے جن پر غور کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری کے خلاف صدارتی ریفرنس کے حوالے سے تحریک اب آخری مراحل میں ہے جب کہ چودہ جولائی کو چیف جسٹس پاکستان کے لاہور کے دورے کی تیاریوں کے وجہ سے یہ ناممکن ہے کہ وکلاء اے پی سی میں شرکت کریں اس لیے پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین عزیز اکبر بیگ اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو تحریری طور پر وکلاءء کی اے پی سی میں شرکت میں معذوری سے آگاہ کر دیاہے۔
وکلاء کی اے پی سی سے اپیل |
ان کا کہنا تھا کہ وکلاء کی نمائندہ تنظمیوں نے تحریری طور پر اے پی سی کے شرکا سے یہ اپیل کی ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے نگرانی میں ہونے والے انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے اور کوئی سیاسی جماعت جنرل مشرف یا ان کی ٹیم کے ساتھ کوئی مذاکرات یا ڈیل نہیں کرے گی۔
رمضان چودھری کا کہنا ہے کہ بعض وکلاءء رہنماؤں کا یہ موقف ہے وکلاء انجمنیں کوئی سیاسی جماعتیں نہیں ہیں جب کہ اے پی سی سیاسی جماعتوں کا ایک اجتماع ہے اس لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان وکلاء رہنماؤں کو اے پی سی میں شرکت کی اجازت دی ہے جو سیاسی جماعتوں کے باقاعدہ ارکان ہیں لیکن ان کی یہ شرکت محض انفرادی حیثیت میں ہوگی۔
پریس کانفرنس میں موجود پنجاب بارکونسل کے رکن عامر جلیل صدیقی نے کہا کہ پنجاب بارکونسل کی طرف سے رانا عبدالشکور خان اور یاسین سوہل نے اے پی سی میں شرکت کرنی تھی لیکن اب یہ دونوں ارکان اے پی سی میں شرکت نہیں کررہے ہیں۔
لاہورہائی کورٹ بارایسوسی ایشن |
دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری سرفراز چیمہ کی قیادت میں وکلاء کا ایک وفد اے پی سی میں شرکت کے لیے جمعرات کو لندن کے لیے روانہ ہوا ہے۔
دریں اثناء جمعرات کو چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے لاہور میں وکلاء اور سیاسی جماعتوں نے پنجاب اسمبلی تک پرامن جلوس نکالا۔