http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 04 July, 2007, 18:55 GMT 23:55 PST

رفیعہ ریاض
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’اسلحے کی کمی کا شدت سے احساس ہوا‘

’بندوق سے میرا رشتہ کوئی نیا نہیں ہے، میرا تعلق باجوڑ سے ہے اور میں بندوقوں کے سائے میں پل بڑھ کر جوان ہوئی ہوں‘۔

یہ الفاظ تھے اٹھارہ سالہ نازیہ کہ (ان کے کہنے پر ان کا فرضی نام استعمال کیا جا رہا ہے) جنہوں نے چھ ماہ پہلے ہی لال مسجد سے ملحقہ مدرسہ حفصہ میں داخلہ لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا ’جیسے میں کلاشنکوف چلاتی ہوں ویسے تو بڑے بڑے ماہر بھی نہیں چلا سکتے، ہمارے ہاں خاندانی دشمنیاں سال ہا سال چلتی رہتی ہیں اور خواتین بندوق چلانے میں اتنی ہی طاق ہوتی ہیں جتنےمرد‘ ۔

یہ پوچھنے پر کہ کیا ڈنڈے سے اسلحہ کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے؟ نازیہ نے کچھ پس و پیش کے بعد کہا ’ہمیں بندوق چلانےکی تربیت بھی ملتی ہے۔ ہماری استانی کی بیٹی خولہ باجی عربوں کی طرح کے کپڑے پہنتی ہیں اور ہر وقت بندوق یا مشین گن کندھے پر لٹکا کر رکھتی ہیں۔ وہ ہمیں مشین گن استعمال کرنا سکھاتی رہی ہیں‘۔

لیکن جب پوچھا گیا کہ اسلحہ اور تربیت کا کیا فائدہ ہوا؟ تو نازیہ نے کہا ’شروع میں آنسو گیس پھینکی گئی تو میں بے ہوش ہو گئی۔ مگر ہوش میں آ تے ہی میں نے مجاہد بھائیوں کو پتھر اور مرچ ملا پانی دینا شروع کر دیا تاکہ دشمنوں کی آنکھوں میں ڈالا جا سکے ۔مجھے اس وقت اسلحے کی کمی کا شدت سے احساس ہوا۔ کیونکہ ہم نے زیادہ تر اسلحہ تو مردوں کے حوالے کر دیا تھا‘۔