Wednesday, 04 July, 2007, 14:07 GMT 19:07 PST
نیئر شہزاد،
اسلام آباد
اسلام آباد کی ایک عدالت نے سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کے خلاف غلط اثاثہ جات ظاہر کرنے کے مقدمے میں بریت کی درخواست منظور کرتے ہوئے کیس خارج کر دیا ہے۔
یہ مقدمہ دو ہزار پانچ میں عوامی نمائندگی کے ایکٹ کے تحت درج کیا گیا تھا۔
بدھ کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد مرزا رفیع الزمان نے اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ انیس سو چورانوے پچانوے میں بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری نے جب اپنے اثاثوں کے گوشوارے جمع کرائے تھے اس وقت یہ جرم نہیں تھا اور عوامی نمائندگان کا ایکٹ دو ہزار دو میں بنایا گیا تھا۔
فاضل عدالت نے کہا کہ اس ایکٹ کے تحت انیس سو پچانوے میں ہونے والے جرم کی سزا نہیں دی جا سکتی۔
فاضل عدالت نے کہا کہ مذکورہ افراد کے خلاف غلط اثاثے ظاہر کرنے کا ایک ریفرنس راولپنڈی کی احتساب کورٹ نمبر چار میں زیرسماعت ہے اور ایک جیسے مقدمے میں دو مرتبہ سزا نہیں دی جا سکتی۔
واضح رہے کہ نیب نے بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف عوامی نمائندگان ایکٹ کی دفعہ بیالیس اور بیاسی کے تحت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا۔’
![]() | |
| سابق وزیراعظم کے شوہر آصف زرداری |
انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ نیب چیئرمین نے نہیں بلکہ نیب کے ایک ڈائریکٹر نے بھیجا تھا جو اس کا اختیار نہیں رکھتا جبکہ نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر بصیر قریشی نے اس مقدمے کے حق میں دلائل دیتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر نے عوامی نمائندگان ایکٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔
واضح رہے کہ فاضل عدالت نے دو جولائی کو فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ چار جولائی تک محفوظ کر لیا تھا۔