Wednesday, 04 July, 2007, 07:26 GMT 12:26 PST
عبدالحئی کاکڑ، دلاور خان وزیر
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
پاک فوج کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد کے ضلع بنوں میں ایک فوجی قافلے پر ہونے والے ایک خودکش حملے میں چھ فوجیوں سمیت آٹھ افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے ہیں۔
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ واقعہ بدھ کی صبح دس بجکر پچیس منٹ پر پیش آیا۔
ان کے مطابق ایک فوجی قافلہ بنوں سے میران شاہ جارہا تھا کہ نیم قبائلی
علاقے ،گربز کے مقام پر اس پر حملہ کیا گیا جس میں چھ فوجی ہلاک جبکہ بارہ زخمی ہوگئے ہیں جنہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق زخمیوں میں آٹھ فوجی اور پانچ عام شہری شامل ہیں جن میں دو فوجیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایک خود کش حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی فوجی قافلے کی آخری گاڑی سے ٹکرا دی۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق اس حملے میں دو عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
فوجی قافلے پر یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب اسلام آباد میں حکومتی فورسز اور لال مسجد کے طالبان کے درمیان کشیدگی بر قرار ہے اور حکومت نے آپریشن کرنے کے لیے ڈیڈ لائن دی ہے۔ تاہم پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حملے کا لال مسجد کی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ سکیورٹی فورسز پر اس قسم کے حملے وقتاً فوقتاً ہوتے رہتے ہیں۔
وہاں پر موجود ایک عینی شاہد احسان نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ میں دو راہ گیر ہلاک ہوگئے ہیں جو وہاں کے مقامی بتائے جاتے ہیں۔
شمالی وزیرستان میں اس وقت حالت انتہائی کشیدہ ہیں لیکن وہاں کے لوگوں کہنا ہے کہ اس دھماکے کا لال مسجد سے کوئی تعلق نہیں ہے البتہ ان کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں افغانستان کی جانب حملوں کے بعد مقامی طالبان اور حکومت کے مابین تعلقات خراب ہوگئے ہیں۔