Monday, 02 July, 2007, 22:01 GMT 03:01 PST
عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، لاہور
چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کے وکیل علی احمد کرد نے کہا ہے کہ چیف جسٹس کے معاملہ پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور اگر کسی نے سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی تو اسے وکلاء کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔
پیر کو لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن میں وکلاء کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس افتخار کے وکیل کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کے پینل میں شامل وکلاء کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ حکومت سے کوئی ڈیل نہیں کی جائے گی اور اگر حکومت نے اسمبلی تحلیل کرنے سمیت کسی بھی دوسرے حربے سے وکلاء تحریک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تو پھر وکلاء نہ کھیلیں نہ کھیلنے دیں گے۔
علی احمد کرد نے اس توقع کا اظہار کیا کہ کوئی جج صدارتی ریفرنس میں چیف جسٹس پاکستان کے خلاف فیصلہ نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے حکومت کے حق میں فیصلہ دیا تو عدالت سے گھر جانے تک اس جج کو عوام کے اس سمندر کو پار کرنا ہوگا جوگزشتہ چار ماہ سے صدارتی ریفرنس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وکلاء کی تحریک ان جرنیلوں کے خلاف ایک جنگ ہے جو پچھلے ساٹھ برسوں سے اس ملک پر حکمرانی کر رہے ہیں اور اس تحریک سے وکلا کی وقار اور عزت میں اضافہ ہوا ہے ۔
علی احمد کرد نے اپنے خطاب میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ پر نکتہ چینی بھی کی۔ خطاب کے دوران وکلاء نے چیف جسٹس پاکستان کے حق میں اور صدر جنرل پرویز مشرف اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے خلاف بھی نعرہ لگائے گئے ۔
یاد رہے کہ چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری چودہ جولائی کو لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرنے والے ہیں۔