Sunday, 01 July, 2007, 17:41 GMT 22:41 PST
ذوالفقار علی
بی بی سی، اردو ڈاٹ کام، مظفرآباد
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کئی تنظیموں نے پاکستان کی مذہبی تنظیم جماعت الدعوۃ پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔
گزشتہ ماہ ایک کشمیری طالب علم کی ہلاکت کے بعد بعض مقامی حلقے تنظیم کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں۔
کئی مذہبی، سیاسی ،طلبہ اور تاجر تنظیموں نےاتوار کو مظفرآباد میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت الدعوۃ پر پابندی اور مظفرآباد میں ان کے دفاتر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی ان کا یہ مطالبہ تھا کہ تنظیم کے کارکنوں کو مظفرآباد سے نکالا جائے۔
اس نیوز کانفرنس میں جمعیت علماء اسلام ، متحدہ طلبہ محاذ اور تاجروں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں سمیت کوئی ڈیڑھ درجن جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
گیارہ جون کو مظفرآباد میں ایک مقامی نوجوان عدنان اشفاق گولی لگنے سے ہلاک ہوا تھا جس کا الزام مقتول کے عزیزوں نے جماعت الدعوۃ کے کارکنوں پر لگایا تھا لیکن تنظیم اس کی تردید کرتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ ہلاکت دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں ہوئی تھی۔
اس واقعہ کے بعد مشتعل ہجوم نے مذہبی تنظیم کے زیر اہتمام چلنے والے ایک ہسپتال کو نذر آتش کردیا تھا جو زلزلے کے بعد قائم کی گیاتھا۔
یہ تنازعہ مبینہ طور پر اس وقت بڑھا جب جماعت الدوۃ نے اسپتال سے ملحق متازعہ زمین پر تعمیر شروع کی جس کے بارے میں مقتول کے خاندان کا کہنا ہے کہ یہ ان کی زمین ہے ۔جس زمین پر تنظیم کا ہسپتال قائم تھا وہ بھی مقتول کے عزیزوں کے مطابق انہوں نے تنطیم کو زلزلے کے بعد فراہم کی تھی۔
لیکن تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ کسی کی نجی زمین پر تعمیرات نہیں کر رہی تھی اور نہ ہی اسپتال کسی شخص کی زمین پر تعمیر کیا گیا تھا۔
تنظیم کا کہنا ہے وہ حکومت سے اس زمین کی لیز حاصل کرنے کے لئے کوششیں کررہی تھی۔ نوجوان کے ہلاکت کے بعد پولیس نے جماعت الدعوۃ کے کوئی پندرہ افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے لیکن ہلاک ہونے والے نوجوان کے عزیزوں کا کہنا ہے کہ قاتل کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا اور وہ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ قاتل کو گرفتار کرکے سزا دی جائے۔
پولیسں کا کہنا ہے کہ وہ تحقیقات کررہی ہے۔
اسی دوران جماعت الدعوۃ کے ترجمان عبداللہ منتظر نے مطالبہ کیا ہے نوجوان کی ہلاکت اور اسپتال کو نذر آتش کرنے کے واقعات کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے اور قصور واروں کو سزا دی جائے۔
مرنے والے نوجوان کے عزیز بھی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کررہے ہیں۔
اسی دوران حکومت نے ڈسڑکٹ اور سیشن جج پر مشتمل ایک کمیشن مقرر کی ہے جو اس واقعہ کی تحقیقات کرے گی۔