http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 28 June, 2007, 16:07 GMT 21:07 PST

عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

خیبرایجنسی: بارش سے 21 افراد ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کے مطابق شدید بارش کی وجہ سے کم سے کم اکیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن میں ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد بھی شامل ہیں۔

پولٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار فضل محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ تحصیل لنڈی کوتل میں جمعرات کی دوپہر کو ہونے والی موسلا دھار بارش کی وجہ سے جو لوگ ہلاک ہوئے ہیں ان میں ایک افغان خاندان کے آٹھ افراد بھی شامل ہیں جن میں سے پانچ بچے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

فضل محمود کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستا ن کو ملانے والی شاہراہ کا ایک بہت بڑا حصہ اور چار پل پانی میں بہہ گئے ہیں جس کی وجہ سے مواصلاتی رابطہ مکمل طور پرمنقطع ہوگیا ہے۔ ان کے بقول چار ٹرک، دوآئل ٹینکرز اور دو گاڑیوں کے بھی پانی میں بہہ جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

فضل محمود نے کہا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر بند سڑکیں کھول دیں تاکہ امدادی سامان لوگوں تک پہنچا یا جاسکے۔

محفوظ مقامات کی تلاش
 ایک مقامی شخص خیال محمد کا کہنا ہے کہ سینکڑوں مکانات کی چھیتیں اور دیواریں گر گئی ہیں۔ سینکڑوں گھر زیر آب آگئے ہیں اور کئی افراد محفوظ مقامات کی تلاش میں پیدل ہی نکل پڑے ہیں
 

ایک مقامی شخص خیال محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں موجود درجنوں کھمبوں کے گرنے کی وجہ سے بجلی کا نظام درہم بر ہم ہوگیا ہے اور سینکڑوں مکانات کی چھیتیں اور دیواریں گر گئی ہیں۔ ان کے مطابق سینکڑوں گھر زیر آب آگئے ہیں اور کئی افراد محفوظ مقامات کی تلاش میں پیدل ہی نکل پڑے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ نقصان سلطان کے علاقے میں پہنچا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اب تک حکومت کی جانب سے امدادی سرگرمیاں شروع نہیں ہوئی ہیں اور لوگ خود اپنے اپنے لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں اورگھروں سے سامان نکال کر پناہ کی تلاش میں ہیں۔

حکام کے مطابق بارش تھم گئی ہے اور نقصانات کا اندازہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔