http://bbc.com.im/urdu/

عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

بلوچستان: امدادی کارروائیوں کا آغاز

بلوچستان میں سیلاب اور بارشوں میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کا کام جمعرات صبح شروع کر دیا گیا اور اب تک کوئی ایک ہزار افراد کو نکال لیا گیا ہے۔

صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے بتایا ہے کہ دو ہیلی کاپٹر اس وقت تربت میں لوگوں کی مدد کے لیے پہنچ چکے ہیں جبکہ آٹھ کوئٹہ سے روانہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد سے چار سی ون تھرٹی طیارے سامان لے کر کوئٹہ پہنچیں گے جنہیں پھر ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں تک پہنچایا جائے گا۔

بلوچستان اور سندھ میں نقصان
یمین بلوچستان ساحل سے ٹکرا گیا
کراچی میں طوفان اور ہلاکتیں
’سائیکلون یمین بلوچستان سےٹکرائےگا‘
بلوچستان: بارشوں کا سلسلہ شروع

تربت سے آمدہ اطلاعات کے مطابق مسجد کی چھت پر پناہ لینے والے چھتیس افراد کو محفوظ مقام پر پہنچانے کا کام جاری ہے جبکہ ضلع بولان میں مٹھڑی کے علاقے سے پانچ سو افراد کو محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا ہے۔

گزشتہ روز سیلاب میں بہہ جانے والی گیس پائپ لائن کی وجہ سے کوئٹہ سمیت قلات زیارت اور کچلاک کو گیس کی ترسیل معطل ہو گئی ہے۔گیس کمپنی کے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ یہ بڑی پائپ لائن ہے جس کی مرمت کام جاری ہے۔

ادھر ریلوے حکام نے بتایا ہے کہ ریل کی پٹڑی سے پتھر ہٹا دیے گئے ہیں اور ریل گاڑیوں کی آمدو رفت شروع ہو گئی ہے۔ گزشتہ روز بولان اور سبی کے درمیان سیلاب سے ریل کی پٹڑی پر پتھر گر گئے تھے جس وجہ سے ریل گاڑیوں کو مختلف مقامات پر روک دیا گیا تھا۔ بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

گزشتہ روز حزب مخالف کی جماعتوں کا کہنا تھا کہ حکومت امدادی سرگرمیاں بروقت شروع کرنے میں ناکام رہی ہے۔

امدادی کاموں میں تاخیر پر قوم پرست جماعتوں نے سخت احتجاج کیا۔ نیشنل پارٹی کے سینیٹر ڈاکڑ مالک بلوچ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت متاثرہ لوگوں کو ریلف دینےمیں ناکام ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

اس سے قبل بلوچستان کے سیکرٹری داخلہ طارق قیوم نے ایک بریفنگ میں کہا تھا نیوی کے ہیلی کاپٹر پہلے مرحلے میں سمندر میں پھنسےغیر ملکی بحری جہازوں کے عملے کو بچانے میں مصروف رہے۔