Thursday, 28 June, 2007, 14:52 GMT 19:52 PST
بلوچستان میں منگل کو سمندری طوفان اور شدید بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے لاکھوں افراد کو خوراک اور امدادی سامان پہنچانے کا کام تیسرے دن بھی بھرپور طریقے سے شروع نہیں کیا جا سکا۔
کوئٹہ میں سرکاری حکام نے بتایا ہے کہ تربت اورگوادر کے لیے کراچی اور اسلام آباد سے دو سی ون تھرٹی جہاز پہنچ چکے ہیں جبکہ کوئٹہ سے بھی 12 ہیلی کاپٹرمتاثرہ علاقوں میں امدادی کام شروع کرنے کیلۓ تیار کھڑے ہیں جیسے ہی موسم ٹھیک ہوگا یہ ہیلی کاپٹرگوادر، تربت، پسنی، گنداوہ، جھل مگسی کی طرف روانہ ہوجائیں گے۔
دوسری جانب کوئٹہ سرکاری ذرائع نے جعفرآباد میں سیلاب سےدولڑکیوں کےمرنے کی تصدیق کی ہے جبکہ ہرناہی میں ایک مکان گرنے سے دوخواتین سمیت تین افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق بلوچستان کے وسیع و عریض علاقے میں آٹھ لاکھ افراد کو خوارک پہنچانے کے لیے فوجی ہیلی کاپٹر استعمال کیئے جا رہے ہیں۔
تربیت سے اے پی کے نامہ نگار کے مطابق بلوچستان کے بیشتر ساحلی علاقے جو سمندری طوفان یمین اور اس کے بعد شدید بارشوں سے زیر آب آ گئے ہیں وہاں لوگ گھروں، مسجد اور دوسری اونچی جگہوں پر محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
افغانستان میں نیٹو حکام کے مطابق افغانستان کے چار مشرقی صوبوں میں بھی سیلاب سے وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ہمارے نامہ نگار کے مطابق دالبندین میں کل رات سے جاری طوفانی ہواؤں اور بارش کی وجہ سے درجنوں کچے مکانات زمین بوس ہوگئے ہیں جبکہ نوکنڈی میں ایف سی کا ایک کمرہ گرنے سے چھ اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
![]() | |
| امدادی کاموں کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کیے جا رہے ہیں |
حکام کےمطابق بولان ندی میں پانی کی سطح کم ہونے کے بعد ہی گیس کی بحالی کا کام شروع ہو سکےگا۔
گیس کی بندش کی وجہ سے کوئٹہ، پشین، زیارت، مستونگ اور قلات کے علاقوں میں ایک لاکھ سے زیادہ صارفین متاثرہوئے ہیں۔
کوئٹہ میں گیس کمپنی کےترجمان مشتاق صدیقی نے کہا ہے کہ متاثرہ پائپ لائن کی مرمت کیلۓ انجینرز کراچی سے سبی پہنچ چکے ہیں جیسے ہی بولان ندی میں پانی کی سطع کم ہو گی تو مرمت کا کام شروع کردیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت بولان ند ی میں 10 فٹ سے زیادہ پانی آ رہا ہے اور پانی کم ہوجانے کے بعدگیس پائپ لائن کی مرمت کا کام ایک دن میں مکمل ہوگا۔
کوئٹہ میں قائم فلڈ ریلیف کنٹرول سیل نے کہا ہے کہ کوئٹہ اور ڈھاڈر کےدرمیان ریلوے لائن ایک بار پھر بھاگ ناڑی کےمقام پرمتاثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے کوئٹہ اورملک کے دوسرے حصوں کے درمیان چلنے والی ٹرینیں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں۔
چاغی کے ناظم محمد ہاشم نوتیزی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوبتایا کہ دالبندین اورنوکنڈی میں دوافراد ہلاک ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ سیلاب کے پانی میں کئی لوگ پھنسے ہوئے ہیں لیکن ابھی تک کوئی امدادی ٹیم وہاں نہیں پہنچی سکی ہے۔
دوسری جانب تفتان میں بھی بارشوں نے تباہی پھیلا دی اورایران سے آنے والے پاکستانی زائرین محصور ہو کر رہ گئے ہیں کیونکہ تفتان اورکوئٹہ کے درمیان ریلوے لائن کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
نائب ناظم نوکنڈی تفتان جلیل محمدانی کے مطابق تفتان اور نوکنڈی میں بارشوں کی وجہ سے کئی لوگوں کے مال مویشی پانی میں بہہ گئے اس کے علاوہ فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
بلوچستان میں بارہ کور کے سٹاف افسر اور صوبائی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ سیلاب میں پھنسے ہوئے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا جا رہا ہے اور کئی مقامات پر امدادی اشیاء فراہم کر دی گئی ہیں لیکن اب تک کئی علاقوں سے لوگوں کی شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ وہ مشکل میں ہیں خوراک کی کمی ہے اور راستے بند ہیں۔
بچے بھوکے ہیں ![]() |
سٹاف افسر وقار نے بتایا کہ تاخیر کی وجہ مواصلات کے نطام کی تباہی اور خراب موسم رہی ہے وگرنہ پاک فوج اپنے سویلین بھائیوں کی مدد کے لیے تیار تھی۔
صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے کہا ہے کہ دو دنوں میں گوادر تربت اور بولان اور دیگر علاقوں سے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے جبکہ مزید کارروائیاں جاری ہیں۔
اس کے بر عکس متاثرہ علاقوں جیسے تربت کے مشرق اور مغربی سمت میں واقع دیہات گوادر کے دشت کے علاقے بلیدہ پنجگور کے کچھ علاقوں کے علاوہ ادھر گندھاوا سے لوگوں نے کہا ہے کہ انھیں تاحال کوئی امداد موصول نہیں ہوئی۔
مکران ڈویژن سے بعض خواتین اور دیگر لوگوں نے کہا کہ ان کے بچے بھوکے ہیں مکان اور دکانیں سیلاب میں بہہ گئے ہیں اور بارش کا پانی پی کر گزارا کر رہے ہیں۔
گندھاوا کے تحصیل ناظم سردار دھنی بخش نے کہا ہے کہ ان کے علاقے میں کوئی امداد موصول نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی ہیلی کاپٹر وہاں پہنچا ہے۔
ادھر ماشکیل سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ ایران کی سمت سے آنے والے سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی ہے بڑی تعداد میں مکان بہہ گئے ہیں جبکہ سولہ افراد کے بہہ جانے کی اطلاع ہے جن میں سے چار کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔
ماشکیل سے سماجی کارکن اعظم ریکی نے کہا ہے کہ یہ سیلابی ریلا رات کے وقت آیا ہے جس سے جانی نقصان زیادہ ہوا ہے۔
سرکاری سطح پر رازق بگٹی نے کہا کہ اس بارے میں معلومات حاصل کی جا رہی ہیں لیکن ٹیلیفون کا نظام تباہ ہونے کی وجہ سے کسی سے رابطہ نہیں ہو رہا۔
تفتان سے تحصیل نائب ناظم جلیل محمدانی نے بتایا ہے کہ ان کے علاقے کے علاوہ نوکنڈی اور افغانستان کے سرحد کے قریب علاقوں میں سیلاب آنے سے شدید نقصان ہوا ہے۔
ادھر جعفرآباد اور نصیر آباد کے علاقوں میں سیلابی ریلے آنے سے کئی مکانات بہہ گئے ہیں اور بڑی تعداد میں لو کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔ یاد رہے ان علاقوں میں زیادہ تر وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں فوری کارروائی کے بعد پناہ لے رکھی تھی۔
پسنی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق کچھ دیہاتوں کو امدادی اشیا کی ترسیل شروع کر دی گئی ہے جبکہ ساحلی شاہراہ پر کراچی سے گوادر جانے والے کوئی دو درجن مسافر خود اورماڑہ پہنچے ہیں جنہیں ایک مقامی سکول میں پناہ دی گئی ہے۔