http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 26 June, 2007, 15:22 GMT 20:22 PST

ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’چین نےحوالگی کا مطالبہ نہیں کیا‘

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ اسے چینی حکومت کی جانب سے قبائلی علاقے میں موجود بائیس چینی شدت پسندوں کو اسکے حوالے کرنے سے متعلق کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔

یہ بات وزارت داخلہ میں قائم کرائسس منجمنٹ سینٹر کے سربراہ برگیڈیر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے پیر کو اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتائی۔ تاہم نیشنل کرائسس سیل ہوتے ہوئے بھی سندھ اور کراچی میں آئے طوفان سے متعلق اس بریفنگ میں کوئی بات نہیں کی گئی۔

جاوید اقبال چیمہ کا کہنا تھا کہ بائیس افراد کی حوالگی سے متعلق چینی حکومت نے ان سے کوئی مطالبہ نہیں کیا ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق چینی حکومت نے قبائلی علاقے میں روپوش اوغر نژاد بائیس چینیوں کو اس کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ حقوق انسانی کی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے گزشتہ دنوں ایک اپیل میں ان افراد کو چینی کے حوالے نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ انہیں ان افراد کے قبائلی علاقے میں موجودگی کے بارے میں بھی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

جاوید اقبال چیمہ کا کہنا تھا: ’میں نے ایسی خبریں دیکھیں ہیں کہ جن میں بائیس اوغر یا چینی شدت پسندوں کی مبینہ فہرست کی حوالگی کی بات کی گئی ہے۔ مجھے یہ کہنے کی اجازت دیں کہ ایسی کوئی فہرست ہمارے حوالے نہیں کی گئی لہذا ایسا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘

وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ بھی آج کل چین کے دورے پر ہیں اور ترجمان کے بقول انہوں نے اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات میں سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت بڑھانے کے موضوع پر بات کی ہے۔

اگرچہ جاوید اقبال چیمہ نیشنل کرائسیس منجمنٹ سیل کے سربراہ ہیں تاہم انہوں نے سندھ اور بلوچستان میں طوفان سے تباہی پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ جب ان سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کا تعلق سکیورٹی ایشوز سے ہے۔ تاہم ان کا ماننا تھا کہ یہ طوفان ایک قومی سانحہ تھا۔

انہوں نے صوبائی حکومت اور ایدھی کے جانی نقصان سے متعلق متضاد اعداوشمار پر روشنی ڈالنے سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مرنے والوں کی تعداد دو سو ہو یا دو سو بیس ہے اور یہ ایک المناک صورتحال ہے۔