Tuesday, 26 June, 2007, 07:42 GMT 12:42 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے والے طوفان اور بارشوں کے بعد مکران ڈویژن کے کئی شہروں سے طغیانی کی اطلاعات ہیں۔ تربت میں ایک ڈیم اور پلوں کو خطرہ ہے جبکہ اورماڑہ میں درجن بھر مکانات گرگئے ہیں اور سیکڑوں کو نقصان پہنچا ہے۔
تربت سے مقامی صحافی طارق مسعود کے مطابق کیچ ندی میں سیلابی ریلے سے ایک اہم پل کے قریب سے پانی گزر رہا ہے جبکہ ایک ڈیلے ایکشن ڈیم سے بڑی مقدار میں پانی امڈ کر آ رہا ہے۔
پسنی سے یونین کونسل کے ناظم عزیز پیر بخش نے بتایا ہے کہ شادی کور اور سنزئی ندی میں ظغیانی سے پانی شہر میں آ گیا ہے۔ ان کے مطابق پانی گرڈ سٹیشن اور شہر کے بڑے رہائشی علاقوں میں پانی داخل ہو گیا ہے۔
![]() | |
| گوادر، پسنی اور اورماڑہ میں وقفے وقفے سے بارش ہو رہی ہے |
بلوچستان کے بیشتر جنوبی اضلاع میں لوگوں میں خوف پایا جاتا ہے جہاں بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ منگل کی رات تک وقفے وقفے سے بارش جاری ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ سرکاری سطح پر کسی قسم کی امدادی کارروائیاں شروع نہیں کی گئی ہیں۔
تربت اور پسنی میں سرکاری سطح پر کسی سے رابطہ نہیں ہو رہا ہے جبکہ ان علاقوں میں لوگوں کا کہنا ہے کہ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات کی طرف جا رہے ہیں اور سرکاری اہلکار کہیں نظر نہیں آئے۔
کوئٹہ میں محکمہ داخلہ نے ایمر جنسی مرکز قائم کیا ہے لیکن منگل کو سارا دن مرکز مییں کسی سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ رات کو جب رابطہ ہوا تو یہی بتایا گیا کہ انہیں کسی قسم کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
اس سے قبل کوئٹہ میں محکمۂ موسمیات کے حکام نے بتایا تھا کہ سمندری طوفان یمین بلوچستان کے ساحل سے ٹکرا گیا ہے لیکن زمین سے ٹکراتے وقت اس کی شدت کافی کم ہو چکی تھی۔ماہر موسمیات عالم زیب نے بتایا کہ طوفان اورماڑہ اور پسنی کے درمیانی علاقے سے ٹکرایا اور کئی گھنٹوں تک ان علاقوں میں مسلسل بارش ہو تی رہی اور تیز ہوائیں چلتی رہیں۔
ادھر صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے کہا ہے کہ ضلعی سطح پر انتظامیہ اور دیگر تمام اداروں کو چوکس رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی غیر معمولی صورتحال سے نمٹا جا سکے اور اس کے علاوہ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو مکمل سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
مکران ڈویژن سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ انتظامیہ یا حکومت کی جانب سے کوئی واضح اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں۔ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہوئے ہیں۔
اس سے قبل محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل چودھری قمرالزمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس طوفان سے پسنی، گوادر اور بلوچستان کے دیگر ساحلی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے جہاں سمندری لہروں اور تیز بارشوں سے سیلاب آنے کا اندیشہ ہے۔
ادھر بلوچستان کے جنوب میں واقع کئی نشیبی علاقے سیلابی ریلوں سے متاثر ہوئے ہیں جن میں جھل مگسی، گندھاوا اور زہری نمایاں ہیں۔ خضدار اور دیگر علاقوں میں بارشوں سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
اس کے علاوہ ادھر جنوبی بلوچستان کے ضلع جھل مگسی کی تحصیل گندھاوا میں پانی شہر کے اندر داخل ہو گیا۔ کوئٹہ میں قائم ایمر جنسی سیل کے حکام نے بتایا کہ انہیں فی الحال ابتدائی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ مکانوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جبکہ گدھاوا سے مقامی صحافی رحمت اللہ نے بتایا کہ کئی دیہات زیر آب آچکے ہیں اور کچے مکانات کو شدید نقصان پہنچا۔
![]() | |
| سنیچر کو طوفان نے یہ راستہ اختیار کیا تھا |
ماہرین کے مطابق اس سال خلافِ معمول بحیرہ عرب زیادہ گرم رہا۔ معمول کے مطابق موسم گرما میں سب سے زیادہ گرم خلیج بنگال رہتا ہے۔ اس وجہ سے پانی کے بھاپ بن کر اڑنے کا عمل زیادہ شدت سے جاری ہے اور غیر معمولی موسم کو جنم دے رہا ہے۔