http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 25 June, 2007, 10:40 GMT 15:40 PST

بارشوں سے تباہی اور ہلاکتیں

پاکستان کے جنوبی اور بھارت کے جنوب مشرقی اور مغربی ساحلی علاقوں میں گزشتہ تین دن میں ہونے والی بارشوں اور سیلابی ریلوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ساڑھے تینوں سو افراد تک پہنچ چکی جب کہ مالی نقصان کا ابھی کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔

پاکستان کے تجارتی مرکز میں طوفان گزر جانے کے دو دن بعد زندگی معمول پر آ رہی ہے تاہم شہر کے کئی علاقوں میں بنیادی سہولیات بحال نہیں ہو سکی ہیں۔ جبکہ بھارت کی کئی ریاستوں میں بارشوں کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔

کراچی میں سنیچر کو آنے والے طوفانِ باد و باراں میں جہاں دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے وہیں بارش اور سیلابی پانی سے بھارتی ریاستوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک سو چالیس تک پہنچ گئی ہے۔ بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں شدید بارش کی وجہ سے کم از کم نو ہزارگھر بھی تباہ ہوئے ہیں۔

کراچی میں بارش کا قہر
گرتے سائن بورڈز، ذمہ دار کون
بھارت میں جان لیوا بارشیں

دونوں ممالک کے محکمۂ موسمیات کے مزید بارش کی بھی پیشین گوئی کی ہے جبکہ آنے والے دنوں میں خلیج بنگال سے ایک اور طوفان اٹھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

کراچی میں بارش کے تیسرے دن کاروبارِ زندگی بحال ہونا شروع ہو گیا ہے تاہم اب بھی شہر کے متعدد علاقوں میں بجلی اور پانی کی فراہمی معطل ہے۔

سنیچر کو آنے والے طوفان کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے بیشتر افراد کو شناخت کر لیا گیا ہے تاہم اب بھی ایدھی ٹرسٹ کے سرد خانے میں موجود چالیس لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔

طوفان کو قریباً اڑتالیس گھنٹے گزر جانے کے باوجود کراچی کے کئی علاقوں میں بجلی اور پانی کی فراہمی بدستور معطل ہے اور سہراب گوٹھ، لانڈھی، ناظم آباد اور شاہراہ فیصل پر لوگوں نے بجلی کے معطلی کے خلاف احتجاج بھی کیا ہے۔

کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ’حالات آج قابو میں ہیں تاہم گزشتہ رات کچھ علاقوں میں احتجاج کے واقعات ہوئے ہیں۔ ہم نے بجلی بحالی کے عمل میں مصروف کے ای ایس سی کے عملے کو تحفط فراہم کیا ہے اور ہمارے سپاہی متاثرہ علاقوں میں ان کی گاڑیوں کے ہمراہ گئے ہیں‘۔

کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے ترجمان سید سلطان احمد کا کہنا ہے کہ بارش اور طوفان سے سات سو کے قریب جگہوں پر بجلی کی تاریں ٹوٹیں اور’اب ایسے علاقوں میں کام جاری ہے جہاں کھمبے گرے ہیں کیونکہ کھمبے پھر سے لگانے میں چوبیس گھنٹے لگتے ہیں‘۔

پاکستانی محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے آئندہ چوبیس گھنٹوں میں کراچی سمیت سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ درمیانے درجے کی بارش کا امکان ہے۔ پیشین گوئی کے مطابق بارش کے دوران تیس ناٹس فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں بھی چلیں گی اور ان کی رفتار میں اضافہ بھی ممکن ہے۔

ادھر بھارت میں شدید بارش اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والے حادثات سے سب سے زیادہ ہلاکتیں جنوبی ریاست کیرالہ میں ہوئی ہیں جہاں ترپّن افراد بارش کی نذر ہوئے ہیں جبکہ ریاست آندھراپردیش میں سینتیس، کرناٹک میں چھبیس اور مہاراشٹر میں اکتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مرنے والے افراد میں سے زیادہ تر سیلابی پانی میں بہنے، آسمانی بجلی گرنے یا منہدم ہونے والےگھروں یا دیواروں کے نیچے دب کر ہلاک ہوئے ہیں۔

ان ریاستوں کے ہزاروں دیہات سیلابی پانی کی وجہ سے باقی علاقوں سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔ چار دن سے جاری بارشوں کے نتیجے میں سینکڑوں میل سڑکیں اور ریل کی پٹڑیاں بھی زیرِ آب آ گئی ہیں۔

آندھرا پردیش کا علاقہ کرنول دو دریاؤں کے درمیان میں واقع ہونے کی وجہ سے بارش اور سیلابی پانی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں سے ہے تاہم یہاں اتوار کے بعد سے صورتحال میں بہتری آنا شروع ہوئی ہے اور پانی اترنے لگا ہے۔

دو لاکھ آبادی والے اس علاقے کے ایک رہائشی چندرشیکھر کلکورا نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’میں نے گزشتہ پچاس برس میں ان دونوں دریاؤں میں ایسا سیلاب نہیں دیکھا جسیا کہ اس مرتبہ آیا ہے‘۔

بھارتی محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک کے مشرقی اور مغربی ساحلی علاقے میں مزید موسلادھار بارش کا امکان ہے جبکہ خلیج بنگال سے اٹھنے والا طوفان بھی آنے والے بدھ کو ریاست آندھرا پردیش پہنچےگا جس کے نتیجے میں علاقے میں ایک مرتبہ پھر طوفانِ با دو باراں آنے کا خدشہ ہے۔