http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 25 June, 2007, 14:36 GMT 19:36 PST

ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پی ایس او: نجکاری کا ریکارڈ طلب

سپریم کورٹ نے پاکستان میں تیل کی سب سے بڑی سرکاری کمپنی پی ایس او کی نجکاری کے خلاف ایک مقدمے میں تمام بولی دینے والوں کا ریکارڈ اٹھائیس جون کو طلب کر لیا ہے۔

جسٹس جاوید اقبال اور جسٹس فلک شیر پر مشتمل ایک بنچ نے پی ایس او کی نج کاری سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران یہ حکم جاری کیا۔

نجکاری کمیشن کو عدالتی نوٹس

جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ عدالت نج کاری کے عمل پر نظر رکھے گی۔

پی ایس او کی نج کاری کے خلاف یہ مقدمہ اٹک گروپ نے دائر کیا تھا۔ گروپ کے وکیل علی سبطین فاضلی نے عدالت کے سامنے کہا کہ ان کی کمپنی نے بولی کی تمام شرائط پوری کی تھیں لیکن نج کاری کو ان سے خفیہ رکھا گیا۔
پی ایس او ہاؤس کراچی
پی ایس او کی نج کاری کے خلاف یہ مقدمہ اٹک گروپ نے دائر کیا تھا

ان کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی نے نیشنل ریفائنری کی بولی میں حکومت کو آٹھ سو کروڑ روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔

مقدمے میں نج کاری کمیشن کی نمائندگی وسیم سجاد نے کی۔ عدالت نے بولی دینے والے کو بھی اس مقدمے میں فریق بنانے کا حکم دیا۔