Sunday, 24 June, 2007, 18:51 GMT 23:51 PST
رفاقت علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ملتان
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار چودھری نے ملتان ہائیکورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو سیاسی کارکن ان کے لیے سڑکوں پر آتے ہیں اور ان کا استقبال کرتے ہیں وہ ان کے شکر گذار ہیں۔
جسٹس چودھری نے کہا کہ مفادِ عامہ سے متعلق جو مقدمات ہوتے ہیں اس سے لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد بحال ہوتا ہے اور حوصلہ ملتا ہے کہ اگر ان پر کوئی ظلم ہوگا تو ایک عام خط سے بھی عدالت اس کا نوٹس لیتی ہے۔ جس سے معاشرے میں بہتری پیدا ہونے کی گنجائش بڑھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لوگ دو وکیلوں کے شکر گزار ہیں کہ وہ آج ایک آزاد ملک کے شہری ہیں اور وہ دو وکیل قائدِ اعظم محمد علی جناح اور ڈاکٹر علامہ اقبال ہیں۔
جسٹس چودھری نے کہا کہ اب وہ وکلاء کی دعوت پر بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان جائیں گے لیکن انہوں نے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار چودھری کےقافلے کولاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ کے احاطے تک پہنچنے میں پینتیس گھنٹے لگے اس کے علاوہ ان کا خطاب بھی ان کی آمد کے کئی گھنٹے بعد ہوا۔
خطاب سننے کےلیے جمع ہونے والے وکلاء انتہائی پرجوش رہے اور نعرے بازی کرتے رہے۔خطاب سے قبل پنڈال میں فوجی ترانے بھی بجائے جا رہے تھے۔ ملتان کے وکلاء نے شہر کے نواحی علاقے رنگو میں چیف جسٹس کے قافلے کا استقبال کیا تھا اور ان کے جلوس میں شامل ہوئے تھے۔
جسٹس افتخار کے قافلے کو ملتان میں داخلے کے بعد پنڈال تک پہنچنے میں ساڑھے چار گھنٹے کا وقت لگا۔ اس سے قبل ساہیوال میں شہر میں داخلے سے پنڈال تک پہنچنے میں پانچ جبکہ اوکاڑہ میں چار گھنٹے لگے تھے۔
چیف جسٹس کے قافلے کے استقبال کے لیے ملتان کے داخلی راستوں پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے بڑے بڑے استقبالیہ کیمپ لگائے گئے تھے اور چوک کمہاراں کے علاقے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے بڑے جلوس چیف جسٹس کے استقبال کے لیے موجود تھے۔
اس سے قبل ملتان کے راستے میں ساہیوال کے مقام پر چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری نے وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ریاست کے تینوں ادارے مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ اپنے اپنے محور میں کام کریں تو پاکستان کی وہ صورتحال نہ ہو جو اس وقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ وکلاء کی تحریک ضرور کامیاب ہوگی، اس میں دیر ہے لیکن اندھیر نہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا کہ اب ایک نئی صبح طلوع ہو چکی ہے۔
سفر کے دوران راستے میں آنے والے شہروں میں چیف جسٹس کا زبردست استقبال کیا گیا۔ ساہیوال میں بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے چیف جسٹس کو خوش آمدید کہا۔ ساہیوال میں انہوں نے چار مئی کو احتجاجی مظاہرے میں پولیس کے ہاتھوں زخمی ہونے والے وکلاء سے بھی ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔
چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ وکلاء کی تحریک کا مقصد پاکستان کو ’سکیورٹی ریاست سے فلاحی ریاست‘ بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کا مقصد عوام کی فلاح ہے اور یہ کہ ملک کو ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھے ججوں کی تقرری بھی عوام کی فلاح کے لیے ضروری ہے اور اس عمل میں وکلاء کو شامل کیا جانا چاہیے۔
چیف جسٹس کا اس سے پہلے پتوکی اور اوکاڑہ میں بھی زبردست استقبال کیا گیا تھا۔ اوکاڑہ میں ان کے استقبال کے لیے وکلاء اور عوام کی اتنی بڑی تعداد موجود تھی کہ ہجوم سے گزرتے ہوئے انہیں ڈِسٹرکٹ بار تک پہنچنے میں چار گھنٹے لگے۔
لاہور سے نامہ نگار علی سلمان نے بتایا کہ اوکاڑہ میں چیف جسٹس کی آمد سے پہلے پولیس نے اوکاڑہ کی بے نظیر روڈ پر لگے مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے دوالگ الگ کیمپ اکھاڑ لیے تھے اور شہر کے مختلف علاقوں سے سیاسی جاعتوں کے بینر اور پوسٹر اتار دیے تھے۔
لیکن چیف جسٹس کے پہنچنے سے کچھ دیر پہلے کارکنوں نے اپنے کیمپ دوبارہ لگالیے اور شہر کو بھی دوبارہ سیاسی پوسٹروں اور بینروں سے بھر دیا۔ شہر میں پیپلز پارٹی مسلم لیگ نواز کے جھنڈے بڑی تعداد میں نظر آرہے تھے۔
پتوکی میں استقبال
اس سے قبل چیف جسٹس کے قافلے نے لاہور سے پتوکی کا تقریباً اسُی کلومیٹر کاسفر پانچ گھنٹے میں طے کیا۔ پتوکی پہنچنے پر سینکڑوں وکلاء اور ہزاروں شہریوں نے چیف جسٹس کے قافلے کا خیر مقدم کیا۔
اگرچہ چیف جسٹس کا پتوکی میں قیام یا خطاب کا پروگرام نہیں تھا لیکن استقبالی ہجوم میں شامل وکلاء بضد تھے کہ وہ سڑک کنارے بنائے گئے پنڈال میں آئیں۔ اس موقع پر وکلاء ان کی گاڑی کے آگے لیٹ گئے اور اصرار کیا کہ چیف جسٹس کی گاڑی پنڈال کی جانب موڑی جائے۔
![]() | |
| چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے قافلے میں وکلاء کی ایک بڑی تعداد شامل ہے |
اس سے قبل چیف جسٹس جمعہ کی شب ہوائی جہاز کے ذریعے اسلام آباد سے لاہور پہنچے تھے جہاں ان کا سینکڑوں وکلاء سمیت سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں نے پرتپاک استقبال کیا تھا۔