Wednesday, 20 June, 2007, 08:58 GMT 13:58 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے حکومت پر امن معاہدے کی بار بار خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے تاہم ابھی معاہدہ توڑنے کا کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔
بی بی سی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے شمالی وزیرستان میں طالبان کے ترجمان عبداللہ فرہاد کا کہنا تھا کہ معاہدہ توڑنے کا فیصلہ ان کی قیادت کرے گی۔
تاہم ان کے بیان سے ایسا محسوس نہیں ہوتا تھا کہ وہ معاہدہ توڑنے میں کسی جلد بازی سے کام لینے والے ہیں۔
ترجمان نے یہ بیان شمالی وزیرستان میں تازہ ہلاکتوں کے واقعے کے بعد دیا۔
ترجمان کا موقف تھا کہ اگر حکومت نے معاہدے کی خلاف ورزیاں بند نہ کیں تو اسے توڑنے کا امکان بھی پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے علاقے میں جاری فوجی کارروائیوں کو طالبان کی ناراضگی کی بڑی وجہ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ لوہے کے سرحد کے آر پار سکریپ کا کاروبار کرنے والے اکثر ان کارروائیوں کا نشانہ بنتے ہیں۔
شمالی وزیرستان میں حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان گزشتہ ستمبر طے پانے والا امن معاہدہ آج کل شدید دباؤ کا شکار ہے۔
مقامی سرداروں پر مشتمل امن کمیٹی پہلے ہی ایک کارروائی پر ناراضگی کا اظہار کرکے مستعفی ہوچکی ہے جبکہ مقامی علماء بھی معاہدے کے مستقبل کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔