Wednesday, 20 June, 2007, 18:43 GMT 23:43 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
کوئٹہ میں آج مری قبیلے کی خواتین اور بچوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ کراچی سے دو بزرگ افراد کو حفیہ ایجنسی کے اہلکار اٹھا کر لے گئے ہیں جن کے بارے میں اب تک کچھ معلوم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اس طرح اٹھائے گئے افراد کے حوالے سے مظاہرے اور اخباری کانفرنس معمول بن چکے ہیں۔
پریس کلب کے سامنے نور بی بی کے ساتھ ڈیرھ درجن بزرگ خواتین اور بچوں نے ہاتھ میں کتبے اٹھا رکھے تھے اور دو افراد کی بازیابی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ نور بی بی نے بتایا کہ ان کے بھائی اسی سالہ قادر عرف شادی خان اور بہتر سالہ خان محمد کو اس سال اپریل میں خفیہ ایجنسی کے اہلکار کراچی میں ان کے مکان کی تلاشی کے بعد اٹھا کر ساتھ لے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کے ان کے بھائیوں کا کیا جرم تھا انہیں عدالت میں تو پیش کریں لیکن نہ تو انہیں منظر عام پر لایا جا رہا ہے اور نہ ہی انہیں عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بھائیوں کو بازیاب کرایا جائے۔
دو روز پہلے تربت میں ایک خاتون کریمہ بی بی نے کہا تھا کہ ان کے چچا واحد کو قانون نافذ کرنے والے اہلکار کوئی تین ماہ پہلے اٹھا کر لے گئے ہیں جنہیں آج تک عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔
بلوچستان میں دسمبر دو ہزار پانچ میں شروع کیے گئے فوجی آپریشن کے بعد سے اس طرح کے دعوؤں میں اضافہ ہوا ہے لیکن صوبائی حکومت نے ان لوگوں کو عدالت میں پیش کرنے یا منظر عام پر لانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے ہیں۔
صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے صحبت پور کے ایک صحافی کے اٹھائے جانے پر کہا تھا کہ اگر کوئی گھر سے ناراض ہو کر بھی چلا جاتا ہے تو اس کا الزام بھی ایجنسیوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔