Wednesday, 20 June, 2007, 15:26 GMT 20:26 PST
مختار آزاد
کراچی
آج کا کراچی بلند عمارتوں والا ملک کا سب سے بڑا تجارتی شہر ہے جہاں دن رات لاکھوں گاڑیاں اور صنعتیں دھواں اُگلتی ہیں۔ اس آلودہ فضا میں رہنے والے ڈیڑھ کروڑ انسانوں میں سے ہر سال سینکڑوں فضائی آلودگی کے سبب مارے جاتے ہیں مگر پھر بھی ترقیاتی منصوبوں کے نام پر درختوں کا صفایا جاری ہے۔
آئی یو سی این میں فضائی آلودگی کے ماہر احمد سعید کا کہنا ہے ’درختوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے فضا میں تازہ آکسیجن خارج کرنے کی قدرتی صلاحیت ہے۔ آج کراچی میں فضائی آلودگی کا سب سے بڑا سبب گاڑیوں اور صنعتوں کا دھواں ہے جو سانس، حلق، ناک، کان اور جِلدی امراض سے لے کر کینسر تک کا سبب بن رہا ہے جس سے خاموش ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ دھوئیں میں شامل مہلک ذرات کی مقدار کسی بھی لحاظ سے انسانی صحت کے لیے موزوں نہیں۔ اس سے بچنے کا قدرتی اور سہل طریقہ یہ ہے کہ درختوں کی بڑی تعداد ہو جو کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے تازہ آکسیجن ہوا میں شامل کرے۔ تاہم کراچی میں درختوں کی تعداد خطرناک حد تک کم ہے۔‘
پاکستان کے خلائی اور فـضائی تحقیق کے کمیشن سپارکو کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق کراچی میں فضائی آلودگی کی انتہائی تشویشناک شرح کے باعث سینے، ناک اور حلق سے متعلق بیماریوں میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ساٹھ فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ آلودگی کے سبب درختوں کی آکسیجن چھوڑنے کی استعداد پر بھی بہت برا اثر پڑا ہے۔
![]() | |
| صدر، کلفٹن، ملیر، ڈرگ روڈ، بندر روڈ، سولجر بازار وغیرہ کی درختوں کی چھاؤں اب کہیں نہیں |
آج کا کراچی تو آلودہ فضا اور سبزہ سے خالی ہے جہاں درخت خال خال ہی ہیں لیکن نصف صدی پہلے کا کراچی کیسا تھا؟سندھ کے دانشور مرحوم پیر علی محمد راشدی اپنی خود نوشت’وہ دن، وہ لوگ‘ میں لکھتے ہیں:
’لاڑکانہ کی چلچلاتی گرمی اور مچھروں سے تنگ آ کر کراچی کا رخ کرتے تھے۔ جب ریل گاڑی جنگ شاہی سٹیشن سے آگے نکلتی تو ٹھنڈی ہوا کے جھونکے جسم کو چومنے لگتے۔ دھابے جی سٹیشن پہنچنے تک جِلد سے گرمی دانوں میں کمی اور بدن میں توانائی محسوس ہونے لگتی۔ دنیا گھوم لی، پھر ایسی صاف، خوشبو دار ہوا نہ ملی۔ پرانے کراچی کی یہ ٹھنڈی ہوا کیا تھی، اس کا اندازہ لگانا بھی آج کل کے حالات میں ممکن نہیں۔‘
مرحوم پیر علی محمد راشدی کے بقول تب پی سی ایچ ایس سوسائٹی کا علاقہ گھنا جنگل تھا جہاں باقاعدہ شکار گاہیں تھیں۔‘
![]() | |
| کوئی نہیں جانتا کہ کراچی میں درختوں کی تعداد کتنی ہے |
تبدیلی کا یہ سفر کس طرح طے ہوا؟ نوے سالہ سراج خان اس کی تفصیل یوں بیان کرتے ہیں:
’یہ 1968ء کی بات ہے۔ میں ہندوستان سے یہاں آیا تو سینٹرل جیل کے قریب سر چھپانے کو جگہ ملی۔ تب تک یہاں باقاعدہ جنگل کٹنے لگا تھا۔ آج کی جیل چورنگی سےموجودہ شہری حکومت کے مرکز حسن اسکوائر تک جانا پڑ جاتا تو لوگ رات کے وقت سبزی منڈی سے آگے واقع جنگل میں سے گزرتے ہوئے کتراتے تھے۔ اُس وقت آج کا یہ یونیورسٹی روڈ کنٹری کلب روڈ کہلاتا تھا۔ اس کی واحد نشانی ایرو کلب تھا۔ میں نے خود یہاں بڑے بڑے درختوں پر گلائیڈر اڑتے دیکھا۔‘
پھر کیا ہوا، جواب میں انہوں نے دوبارہ گفتگو شروع کی:
’ آہستہ آہستہ آبادی بڑھنے لگی۔ نئے علاقے آباد ہونے لگے اور درخت بے دھڑک کٹتے چلے گئے۔‘
ستر کی دہائی تک کن کن اقسام کے درخت یہاں ہوتے تھے؟ یہ سوال ملیر کی رہائشی بزرگ خاتون سلطانہ بیگم سے پ-وچھا تو وہ کہنے لگیں:
![]() | |
| ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹ قرار دے کر شہر بھر میں پانچ ہزار درخت کاٹے گئے |
رضوان قریشی مصور ہیں۔ کہتے ہیں ’ترقی کا عمل فطرت کی قیمت پر نہیں ہوتا، مگر ہم نے یہ سودا کراچی میں کیا ہے۔ شہر میں درختوں کی بڑی تعداد ترقیاتی منصوبوں کے نام پر کاٹی گئی۔ ترقی کی قیمت تو ادا کردی، اب آلودہ فضا اُسی سودے کی سزا ہے۔‘
کراچی میں درختوں کی تعداد کتنی ہے؟ یہ سوال کراچی شہری حکومت کے ایک افسر سے کیا تو انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ’یہ کوئی نہیں جانتا کہ کراچی میں درختوں کی تعداد کتنی ہے۔ نہ ہی اب تک کوئی ایسا سروے کیا گیا ہے جس سے پتا چل سکے کہ شہر میں درختوں کی تعداد کیا ہے۔‘
یہ سروے کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ اس کاجواب تو ان سے نہیں مل سکا لیکن ان کٹنے والے درختوں کے اعداد و شمار کا ضرور علم ہوگیا جوگزشتہ سات برس کے دوران ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھ کر کاٹے گئے اور جو مستقبلِ قریب میں کٹ کر گرنے والے ہیں۔
![]() | |
| اگر یونہی درخت کٹتے رہے تو پھر زندگی کا مستقبل تاریک ہے |
پاکستان میں تخفظِ ماحول کے قانون مجریہ 1997ء کی رو سے’درخت کاٹ کر سبز ماحول کو نقصان پہنچانے کا جرم مستوجبِ سزا ہے، جس پر مجرم کو تین ہزار روپے جرمانے اور چھ ما قید کی سزا دی جائے گی۔‘
بقول ایک طالبعلم کے اگر کراچی میں یونہی درخت کٹتے رہے اور ان کی جگہ لاحاصل شجرکاری یونہی بے نتیجہ ثابت ہوتی رہی تو پھر زندگی کا مستقبل تاریک ہے۔