Tuesday, 19 June, 2007, 11:54 GMT 16:54 PST
دلاورخان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ڈیرہ اسماعیل خان
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کمانڈر مولوی نذیر نے کہا ہے کہ پابندی عام ٹی وی اور سی ڈی پلیئرز پر نہیں بلکہ ان سی ڈیز پر پابندی لگائی گئی ہے جن کو بچے گزشتہ کئی سال سے مختلف ہوٹلوں اور دکانوں میں دیکھ رہے تھے جن میں جہادی ترانے اور لوگوں کو ذبح کرتے دِکھایا جا رہا تھا۔
مولوی نذیر نے بی بی سی سے ٹیلیفون پر بات چیت کرتے اس خبر پر ردعمل کا اظہار کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جنوبی وزیرستان میں ایک پمفلٹ کے ذریعے دھمکی دی گئی ہے کہ ہوٹلوں، ریسٹورانوں، دکانوں اور دوسرے مقامات سے ٹی وی اور سی ڈی وغیرہ کو بیس جون تک ہٹا دیں۔ اگر کسی نے بیس جون تک اس پر عمل نہیں کیا تو اس کے بعد اس شخص کو دس ہزار پاکستانی روپے جرمانہ کیا جائےگا۔
اردو میں لکھے پمفلٹ کا عنوان تھا: ’ایک ضروری اعلان‘۔ پمفلٹ میں وانا بازار کے علاوہ اعظم ورسک، شاہ عالم، رغزائی، کڑیکوٹ، انگوراڈہ کے علاقوں میں واقع بازاروں کا ذکر بھی کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا: ’ہم چاہتے ہیں کہ علاقے میں امن قائم ہو۔ جہادی مواد پر مشتمل ویڈیو ٹیپ اور سی ڈیز نے نئی نسل کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے۔ وانا بازار اور ملحقہ علاقوں میں اس قسم کی سی ڈیز کا استعمال عام ہوچکا ہے، خاص طور پر بچوں کے والدین پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے یہ اقدام اٹھانا پڑا ہے۔
انہوں نے کہا: ’گزشتہ روز شائع ہونے والے پمفلٹ میں جہادی مواد پر مشتمل سی ڈیز کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ اس میں صرف ٹی وی اور سی ڈیز پر پابندی کا ذکر تھا لیکن اس سے ہمارا اصل مقصد جہادی مواد پر مشتمل سی ڈیز سے تھا‘۔
وانا سے موصولہ اطلاع کے مطابق دکانداروں نے ٹی وی اور سی ڈیز پلیئر کو ہٹا دیا ہے۔