Monday, 18 June, 2007, 01:25 GMT 06:25 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مقامی طالبان نے سڑکوں پر نکل کر لوگوں سے ملاقاتیں کی ہیں اور انہیں باور کرایا ہے کہ باجوڑ میں سرکاری اہلکاروں اور سی ڈیز سنٹرز پر ہونے والے حالیہ حملوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
باجوڑ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق علاقے میں’ مجاہدین ’ کے نام سے مشہور یہ جنگجو تین گاڑیوں میں سوار تھے اور خود کار اور بھاری ہتھیاروں سے لیس تھے۔ انہوں نے چہروں پر نقاب پہنے ہوئے تھے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جنگجوؤں نے صدر مقام خار، عنایت کلے اور صدیق آباد پھاٹک کے علاقوں میں مقامی قبائلیوں کو سڑکوں پر جمع کر کے ان سے بات کی اور انہیں یقین دلایا کہ باجوڑ میں دھمکی آمیز خطوط، سرکاری اہلکاروں پر حملوں اور سی ڈیز کی دوکانوں کو بم حملوں میں نشانہ بنانے کی کارروائیوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
یاد رہے کہ باجوڑ میں سرکاری اہلکاروں اور فلمیں فروخت کرنے والے سی ڈیز سنٹروں پر گزشتہ کچھ عرصہ سے حملے کیے جا رہے ہیں جن کا شبہ طالبان شدت پسندوں پر ظاہر کیا جا رہا ہے۔
![]() | |
| چند ماہ قبل باجوڑ میں حکومت اور قبائلیوں کے مابین ایک امن معاہدہ طے پایا تھا |
اس سلسلے میں باجوڑ کے پولیٹکل ایجنٹ شکیل قادر نے رابط کرنے پر بی بی سی کو اس بات کی تو تصدیق کی کہ کچھ مقامی قبائلیوں نے بازاروں میں جاکر لوگوں سے علاقے میں امن وامان کے حوالے سے ملاقاتیں کیں ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ان کو طالبان نہیں بلکہ مقامی باشندے کہتے ہیں۔
واضح رہے کہ تقریباً دوہفتے قبل باجوڑ میں پولیٹکل تحصیلدار اور ایک مقامی صحافی سمیت پانچ افراد کو ایک ریموٹ کنٹرول بم حملے میں ہلاک کیا گیا تھا۔
چند ماہ قبل باجوڑ میں حکومت اور قبائلیوں کے مابین ایک امن معاہدہ طے پایا تھا جس کے مطابق قبائلیوں نے علاقے میں غیر ملکیوں کو پناہ نےنہ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔