Sunday, 17 June, 2007, 00:11 GMT 05:11 PST
علی سلمان، رفاقت علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پاکستان
چیف جسٹس کے وکلاء نے کہا ہے کہ وہ سیاست نہیں کر رہے ہیں بلکہ ایک ایسی تحریک کا حصہ ہیں جو انصاف کی تحریک ہے۔
چنیوٹ میں چیف جسٹس کے وکلاء علی احمد کرد، اعتزاز احسن اور منیر اے ملک نے بار سے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں انصاف صرف فوجیوں کو ملتا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ انصاف سب کو ملے۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ کوئی سیاست نہیں کر رہے ہیں۔ وہ حکومت کو کوئی ایسا جواز نہیں دینا چاہتے کہ یہ کہا جائے کہ چیف جسٹس سیاست کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چیف جسٹس افتخار 21 جولائی کو بذریعہ ٹرین کوئٹہ جائیں گے اور 23 جون کو ملتان اور 30 کو راولا کوٹ کا دورہ کریں گے۔
چیف جسٹس کا سینکڑوں گاڑیوں پر مشتمل قافلہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے تین بجے فیصل آباد شہر پہنچا اور ان کی گاڑی تقریب کے پنڈال میں چھ بجکر پینتالیس منٹ پر داخل ہوئی۔ اس طرح انہیں اسلام آباد سے فیصل آباد آتے تقریباً اکیس گھنٹے لگ گئے۔
چیف جسٹس کے پنڈال میں پہنچتے ہی آتش بازی کی گئی، کبوتر آزاد کیے گئے اور چیف جسٹس پر پھولوں کی پتیاں پھینکی گئیں۔ ان کے آتے ہی پورا پنڈال ’گو مشرف گو‘ کے نعروں سے گونج اٹھا۔
چکوال میں اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وکلاء کی تحریک چیف جسٹس کے خلاف زیادتی سے شروع ہوئی تھی، لیکن اب یہ ان کی بحالی پر بھی ختم نہیں ہوگی۔ ’یہ اب عوامی حقوق کی تحریک ہے‘۔
استقبال کے لیے ْبڑی تعداد میں آئے ہوئے سیاسی کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے درخواست کی کہ وہ بار ایسوسی ایشن کی تقریب میں نہ آئیں کیونکہ پھر حکومت الزام لگاتی ہے کہ چیف جسٹس سیاسی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔
چاچا وردی لاہندا ۔۔۔۔ |
چیف جسٹس کا استقبال کرنے والوں میں ایک شخص ظفر عباس اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ موجود تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا ایک بچہ ڈاکٹروں کی غفلت سے ہلاک ہوگیا تھا۔ غفلت کے مرتکب ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی کوشش کی تو کہیں شنوائی نہ ہوئی۔
ظفر عباس کے مطابق ان کی روئیداد اخبار میں چھپنے پر چیف جسٹس افتخار چودھری نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے معاملہ کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔
سنیچر کو جسٹس افتخار اور ان کے وکلاء ایک گھنٹہ تاخیر سے صبح ساڑھے نو بجے اسلام آباد سے فیصل آباد کے لیے روانہ ہوئے تو موٹروے پر آنے سے پہلے ہی سینکڑوں گاڑیوں میں سوار وکلاء اور حزب مخالف سے تعلق رکھنے والی مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن ان کے قافلے میں شامل ہوچکے تھے۔
![]() | |
| فیصل آباد میں چیف جسٹس کی قد آدم تصاویر لگائی گئیں |
راستے میں جہاں کوئی گاؤں یا قصبہ آتا تو بڑی تعداد میں عام لوگ سڑک کے اطراف میں کھڑے نظر آتے۔
چیف جسٹس کے قافلے میں جو نعرہ سب سے مقبول سنائی دے رہا ہے وہ ہے ’چاچا وردی لاہندا کیوں نہیں، عزت نال گھر جاندا کیوں نہیں‘۔ اس کے علاوہ ’کب تک لوٹو گے جرنیلو تم ڈنڈے کے زور پہ، شرمندہ تاریخ رہے گی فرعونی دور پہ‘ اور ’پاکستان زندہ باد، آمریت مردہ باد‘ بھی چیف جسٹس کے قافلے کا ایک مقبول نعرہ رہا۔