http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 16 June, 2007, 17:08 GMT 22:08 PST

عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

سرحد: 114 ارب کا ٹیکس فری بجٹ

صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت نے رواں مالی سال کے لیے ایک سو چودہ ارب روپے سے زیادہ کےحجم کا ٹیکس فری بجٹ پیش کیا ہے جس میں انتالیس اشاریہ پانچ ارب روپے کو ترقیاتی کاموں کے لیے مختص کیے گئے ہے۔

بجٹ پیش کرنے کے دوران توقع کے برعکس حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ارکان نے کسی قسم کا کوئی احتجاج نہیں کیا اور آخری وقت تک صوبائی وزیر خزانہ شاہ رازخان کی بجٹ تقریر سنتے رہے۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گیے تھے۔

بجٹ کو گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی تین حصوں یعنی فلاحی، ترقیاتی اور انتظامی بجٹ میں تقسیم کیا گیا تھا جس کے لیے بالترتیب چالیس ارب، انتالیس اشاریہ پانچ ارب اور چودہ اشاریہ آٹھ ارب روپے مختص کیے گیے ہیں۔

کالج سکول اور سڑکیں
 صوبے میں اکیس نئے ڈگری کالج، چار سو پرائمری سکولوں کے قیام کے علاوہ صوبے بھر میں پانچ سو کلومیٹر پکی سڑکیں بنانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے
 
بجٹ منصوبے

صوبائی وزیر خزانہ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران کسی قسم کا کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا جبکہ صوبائی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں پندرہ سے بیس فیصد تک کا اضافہ ہوگا۔

رواں سال کے دوران محکمہ صحت میں انیس سو چھیانوے اور محکمہ پولیس میں نو سو سترہ آسامیاں پیدا کی جائیں گی جبکہ بجٹ میں محکمہ پولیس کے لیے پانچ ارب روپے سے زیادہ کی رقم مختص کی گئی ہے جو پچھلے سال کے مقابلے میں ایک سو چودہ فیصد زیادہ ہے۔

تعلیم کے لیے ایک اشاریہ اٹھارہ جب کہ صحت کے لیے دو اشاریہ سات ارب روپے مختص کیے گیے ہیں۔ صوبائی وزیر خزانہ نے صوبے میں اکیس نئے ڈگری کالج، چار سو پرائمری سکولوں کے قیام کے علاوہ صوبے بھر میں پانچ سو کلومیٹر پکی سڑکیں بنانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

صوبائی بجٹ میں دینی مدارس کی سالانہ گرانٹ میں سو فیصد کا اضافہ کرتے ہوئے ایک کروڑ سے دو کروڑ روپے کردیا گیا ہے جبکہ اوقاف کی مساجد کے خطیبوں کو ان کی آسامیوں پر مستقل کردیا گیا ہے۔