Thursday, 14 June, 2007, 22:56 GMT 03:56 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
کراچی ائرپورٹ سے لاپتہ ہونے والے بلوچ نوجوان لقمان عرف عثمان کے رشے داروں نے سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کی گمشدگی کا نوٹس لیں۔
لقمان کی ہمشیرہ آمنہ کھوسو نے کراچی پریس کلب میں جمعرات کی شام ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ لقمان لاپتہ ہونے سے قبل دبئی میں برسر روزگار تھے اور چودہ جون دو ہزار چھ کو بارہ بجے کراچی ائرپورٹ پہنچنے کے بعد لاپتہ ہوگئے۔
اس پریس کانفرنس میں لقمان کی والدہ اور اہلیہ بھی موجود تھیں جو شدید علیل تھیں۔ لقمان سات بچوں کا باپ اور گھر کا واحد کفیل ہے۔
آمنہ کھوسو کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی کا کسی سیاسی یا مذہبی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل کچھ لوگ ان کے گھر آئے تھے جنہوں نے بتایا کہ لقمان ملیر چھاؤنی میں خیریت سے ہے۔ آمنہ کے مطابق ان لوگوں نے اپنی شناخت کرائی تھی اس اطلاع کے بعد سےاہل خانہ کی پریشانیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ کس قانون کے تحت لقمان کو حراست میں رکھا گیا ہے اور انہیں کیوں نہیں بتایا جا رہا ہے کہ انہوں نے کون سا جرم کیا ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے لاپتہ افراد کی درخواستوں کی سماعت اور ان کی تفصیلات طلب کرنے کے بعد مزید لاپتہ افراد کے رشےداروں نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔