http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 14 June, 2007, 14:38 GMT 19:38 PST

عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

فوج جائے، منتخب اسمبلی آئے: جرگہ

ایک گرینڈ قبائلی جرگے نے قبائلی علاقوں سے فوج کو نکالنے اور ایک خود مختار منتخب اسمبلی کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔

اوقاف ہال پشاور میں فاٹا گرینڈ الائنس کے زیر اہتمام سنیچر کو ہونے والے اس جرگے میں اراکین پارلیمنٹ، قبائلی مشیروں، وکلاء، صحافیوں اور طلباء تنظیموں نے شرکت کی۔اس موقع پر سات قبائلی ایجنسیوں اور چھ نیم قبائلی علاقوں سے آئے ہوئے دو درجن سے زیادہ قبائلی مشیران نے خطاب کیا۔

مقررین نے قبائلی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال با الخصوص جنوبی اور شمالی وزیرستان، باجوڑ، خیبر اور اورکزئی ایجنسیوں میں فراقہ ورانہ فسادات، طالبانائزیشن اور پاکستانی فوج کے آپریشن کے علاوہ قبائلی علاقوں کی ترقی، تعلیم، صحت، جرگہ سسٹم کی بحالی پر تفصیل سے اظہار خیال کیا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقے کے معاملات میں قبائل کو شریک نہیں کیا جا رہا ہے اور تمام فیصلے غیر قبائل کر رہے ہیں۔ مقررین نے تقریروں میں بار بار اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے جرگے میں قبائلیوں کو مؤثر اور بھر پور نمائندگی دی جائے۔
تمام فیصلے غیر قبائل کر رہے ہیں: گرینڈ جرگہ

جرگے میں تقریباً دس قرار دادیں بھی منظور کی گئیں جن میں قبائلی علاقوں سے فوج کی واپسی، خود مختار پارلیمنٹ کے قیام، این ایف سی ایوارڈ میں قبائلی علاقوں کو حصہ دینے، فاٹا میں یونیورسٹی، کالجز کے قیام، ٹیکسوں کے خاتمے اور فاٹا سیکرٹریٹ میں قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعیناتی کے مطالبات کیے گئے۔

جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی گلالئی وہ واحد خاتوں تھیں جنہوں نے جرگے میں شرکت کی۔ بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے گلالئی نے جرگے کے قیام کو ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے اس بات پر افسوس اظہار کیا کہ جرگے میں خواتین کو کسی قسم کی کوئی نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔

ان کے مطابق ’بہت ہی بدقسمتی کی بات ہے کہ باشعور اراکین پارلیمنٹ نے قبائلی علاقوں سے متعلق ہونے والے جرگے میں پچاس فیصد خواتین کو نمائندگی نہیں دی ہے۔ جب تک خواتین کو قبائلی علاقوں میں ہونے والی ترقیاتی کاموں کا حصہ نہیں بنایا جاتا تب تک قبائلی علاقوں کو ترقی یافتہ اور ترقی پسند بنانے کا خواب ادھورا رہے گا۔‘
ترقی پسند بنانے کا خواب ادھورا رہے گا:گلالئی
واضح رہے کہ گزشتہ چار سالوں سے مقامی طالبان، غیر ملکیوں اور پاکستانی فوج کے درمیان لڑائی کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ تقریباً دو ہزار قبائلیوں پر مشتمل ایک گرینڈ جرگے کا انعقاد کیا گیا ہے۔

مبصرین غیرسیاسی بنیادوں پر ہونے والے اس جرگے کو ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔